جنید اکبر کی اپنی ہی پارٹی اور صوبائی حکومت کیخلاف چارج شیٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
جنید اکبر : فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے اپنی ہی پارٹی اور صوبائی حکومت کے خلاف چارج شیٹ پیش کردی۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے شکایات کا انبار لگاتے ہوئے کہا کہ ان کی حمایت کرنے والوں کو حکومت انتقام کا نشانہ بناتی ہے۔
جنید اکبر نے کہا کہ وہ ڈرون حملوں کے خلاف بولتے ہیں تو بیرسٹر سیف حملوں کی تعریف کرتے ہیں، پارٹی کا مینڈیٹ چوری کرنے والے آر اوز کو ترقیاں مل گئیں۔
شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر سے بھی ان کی نشست پر جا کر مصافحہ کیا۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ بیرسٹر گوہر اور دیگر لوگ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ملاقات کے بعد ایک پیغام دیتے ہیں اور اگلی بار اس کے برعکس پیغام لے کر آتے ہیں، پارٹی کی طرف سے کوئی سپورٹ نہیں مل رہی، ایسے حالات میں ان کے لیے تحریک آگے بڑھانا مشکل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو پتا ہونا چاہیے کہ ان کے پاس اختیار کتنا ہے اور کتنا ہونا چاہیے، پہلے دن سے سمجھ رہا ہوں کہ ریاستی اداروں سے ہمیں کوئی امید نہیں، ہمارے پاس پہلا اور آخری آپشن احتجاج کا ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے اداروں سے گلہ ہے، ہمیں ووٹ بانی پی ٹی آئی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا ملا، میرے صوبے میں ڈرون حملہ ہوتا ہے تو میں اس کے خلاف بولتا ہوں، ڈرون حملے پر بیرسٹر سیف کا مبارک باد کا پیغام آتا ہے تو حیران ہوں میں کہاں جاؤں؟
جنید اکبر نے مزید کہا کہ جب سے پارٹی کا صوبائی صدر بنا 18 مرتبہ بانی پی ٹی آئی نے بلایا، ایک بار بھی ملاقات نہیں ہوئی، اب کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا بجٹ پیش نہیں ہوگا، اب کہہ رہے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ اچھا ہوا بجٹ پیش ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی کا صوبائی صدر ہوں لوگوں کی توقع ہے کہ احتجاج کا ماحول بناؤں، بیرسٹرگوہر نے مجھے کہا کہ آپ ڈی سی کا کہہ رہے ہیں میں 6 ماہ سے ڈی پی او کا کہہ رہا ہوں کچھ نہیں ہوسکتا، نومبر میں 5 ہزار اور اکتوبر میں 2 ہزار ورکرز پکڑے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی جنید اکبر نے پی ٹی ا ئی نے نے کہا کہ
پڑھیں:
بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔