امریکی خفیہ ادارے پینٹاگون کی رپورٹ لیک کرنے والے کو اب تک تلاش نہ کرسکے
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سی این این کی رپورٹر نتاشہ برٹرینڈ نے متعدد بار فیک نیوز رپورٹ کی، صحافت فیکٹس اور سچ کو ڈھونڈنے کا نام ہے، نتاشہ برٹرینڈ نے ٹرمپ کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے تمام خفیہ ادارے پینٹاگون کی رپورٹ لیک کرنے والے کو اب تک تلاش نہ کرسکے، ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کہا کہنا ہے کہ ملزم کو جیل جانا ہوگا، رپورٹ لیک کرنے والے کا تعاقب جاری ہے۔ عالمی طاقت کہلانے والے امریکا کے تمام خفیہ ادارے اب تک پینٹاگون کی حساس رپورٹ لیک کرنے والے شخص کا سراغ لگانے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ لیک کرنے والے کو جیل جانا ہوگا۔
واشنگٹن میں میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان کا کہنا تھا کہ رپورٹ لیک کرنے والے کی تلاش جاری ہے اور ایف بی آئی نے بھی معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ کیرولین لیوٹ نے واضح کیا کہ سی این این کی جانب سے چلائی جانے والی خبر حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتی۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے دعویٰ کیا کہ پینٹاگون کے فوجی آپریشن کے بعد ایران اب جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے۔ تاہم انٹیلی جنس معلومات کی لیکج سے امریکا کی سیکیورٹی اداروں کی ساکھ پر سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اس واقعے نے امریکی انتظامیہ میں اضطراب کی کیفیت پیدا کر دی ہے جبکہ حکومت لیک کرنے والے شخص کو جلد از جلد گرفتار کرنے کے لیے مختلف اداروں کو متحرک کر چکی ہے۔ ترجمان وائٹ ہاؤس نے کہا کہ سی این این کی رپورٹرنتاشہ برٹرینڈ نے متعدد بار فیک نیوز رپورٹ کی، صحافت فیکٹس اور سچ کو ڈھونڈنے کا نام ہے، نتاشہ برٹرینڈ نے ٹرمپ کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے کی کوشش کی۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ اس ہفتے بھی اس رپورٹر نے ٹرمپ کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کی۔ بی 2 پائلٹس نے کامیاب آپریشن کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ترجمان وائٹ ہاؤس بنانے کی
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔