سٹی42:  محرم الحرام کے دوران سکیورٹی خدشات کے پیش نظر محکمہ داخلہ پنجاب نے صوبہ بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ پابندیاں یکم محرم الحرام سے 10 محرم الحرام تک نافذ العمل رہیں گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے نفاذ کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے تحت تمام اضلاع کے انتظامی افسران کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے مطابق دفعہ 144 کے تحت منظور شدہ جلوسوں و مجالس کے علاوہ کسی نئی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی، عوامی مقامات پر ہتھیار اور آتش گیر مواد کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی، اشتعال انگیز نعرے، اشارے یا عوامی جذبات کو مشتعل کرنے والی سرگرمیاں ممنوع ہوں گی، فرقہ وارانہ یا نسلی منافرت پر مبنی بیانات یا مواد کی اشاعت پر مکمل پابندی ہوگی، چاہے وہ کسی بھی ڈیوائس یا ذریعے سے ہو۔

مجوزہ لیوی سے فرنس آئل کی سیل میں واضح کمی ہوگی؛ معاشی تھنک ٹینک

اس کے علاوہ جلوس کے راستوں میں واقع عمارتوں کی چھتوں پر مورچے بنانے پر پابندی ہوگی، ان عمارتوں کی چھتوں پر پتھر، اینٹیں، بوتلیں یا کچرا جمع کرنا ممنوع ہوگا اور  تماشائی کی صورت میں چھتوں یا دکانوں کے تھڑوں پر بیٹھنے پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔
 ڈبل سواری پر جزوی پابندی
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق ڈبل سواری پر پابندی صرف 9 اور 10 محرم الحرام کو نافذ ہو گی۔اس پابندی سے بزرگ شہری، خواتین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مستثنیٰ ہوں گے۔

پنجاب کی حکومت نے صوبے بھر میں دفعہ  144 نافذ کر دی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: سٹی42 محرم الحرام

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال