محرم الحرام، ماتمی جلوسوں کی نگرانی کیلئے ڈرونز استعمال کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, June 2025 GMT
آئی جی کے پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے جدید اسلحہ خرید لیا ہے، پولیس کو تھرمل ڈرونز رواں ہفتے مل جائیں گے، ان ڈرونز سے دن رات کسی بھی وقت نقل و حرکت کی نگرانی کی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقارحمید نے کہا ہے کہ محرم الحرام میں ماتمی جلوسوں کی نگرانی کے لیے ڈرونز استعمال کیے جائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی کے پی ذوالفقار حمید نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس نے جدید اسلحہ خرید لیا ہے، پولیس کو تھرمل ڈرونز رواں ہفتے مل جائیں گے، ان ڈرونز سے دن رات کسی بھی وقت نقل و حرکت کی نگرانی کی جائے گی۔ آئی جی کے پی نے بتایا کہ رواں ہفتے شارٹ مشین گنزکی ڈیلیور ی بھی ہوجائے گی، خراب آرمرڈ پرسنل کیرئیر گاڑیاں بھی ٹھیک کردی ہیں جب کہ آرمرڈ پرسنل کیرئیر گاڑیاں بھی آجائیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اے پی سی گاڑیاں حساس اضلاع میں محرم کے دوران مہیا کریں گے اور ماتمی جلوسوں کی نگرانی کیلئے ڈرونز بھی استعمال کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی نگرانی کی جائیں گے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔