روس، پاکستان، چین اور ایران کیجانب سے افغانستان میں امریکی فوجی اڈے کی مخالفت
اشاعت کی تاریخ: 27th, September 2025 GMT
افغانستان کے صوبہ پروان میں واقع یہ ایئربیس دارالحکومت کابل سے محض ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے، اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان حکومت کے کنٹرول کے دوران امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان سے نکل گئی تھیں اور بگرام ایئر بیس کا کنٹرول طالبان حکومت نے سنبھال لیا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ روس، پاکستان، چین اور ایران نے افغانستان میں امریکی فوجی اڈے کی مخالفت کردی۔ خبر ایجنسی کے مطابق ہمسایہ ممالک نے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ سے تباہ حال افغانستان میں کسی ملٹری ایئر بیس کے حق میں نہیں، افغانستان کی علاقائی سلامتی، خود مختاری اور آزادی کا احترام کیا جائے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ افغانستان کی بگرام ایئر بیس پر اب چین کا کنٹرول ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ چین پر نظر رکھنے کے لئے اس فوجی اڈے کا کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہتے تھے۔ صدر ٹرمپ کا بگرام ایئربیس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کا شمار دنیا کی بڑی ایئربیسز میں ہوتا ہے، جہاں مضبوط کنکریٹ رن وے پر کسی بھی قسم کے طیارے اتر سکتے ہیں، تاہم ان کے بقول امریکہ نے اس کا کنٹرول کھو دیا اور یہ ایئر بیس اب چین کے زیرِ اثر آچکا ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں چین بگرام ایئربیس پر موجودگی کے امریکی الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بگرام ایئر بیس کا کنٹرل اس لیے پاس رکھتے کیونکہ یہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے، جہاں اُن کے بقول چین اپنے جوہری میزائل بناتا ہے۔ افغانستان کے صوبہ پروان میں واقع یہ ایئربیس دارالحکومت کابل سے محض ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پر ہے، اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان حکومت کے کنٹرول کے دوران امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان سے نکل گئی تھیں اور بگرام ایئر بیس کا کنٹرول طالبان حکومت نے سنبھال لیا تھا۔ طالبان حکومت کے اعلیٰ عہدے دار متعدد مواقع پر واضح کرچکے ہیں کہ بگرام سمیت کسی بھی فوجی اہمیت کی حامل تنصیب پر غیر ملکی کنٹرول یا مداخلت قابل قبول نہیں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بگرام ایئر بیس افغانستان میں طالبان حکومت کا کنٹرول
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔