کوئٹہ:7 ماہ قبل اغواء کئے گئے ،تاجر کے بیٹے کی لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوئٹہ(نمائندہ جسارت)کوئٹہ سے سات ماہ قبل اغوا کیے گئے ایک تاجر کے بیٹے کی لاش ضلع مستونگ کے علاقے اسپلنجی سے برآمد کر لی گئی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ 10 سالہ محمد مصور کاکڑ کے اغوا اور قتل میں عالمی کالعدم تنظیم داعش ملوث تھی جس نے مغوی کی رہائی کے بدلے 12 ملین امریکی ڈالر (تقریباً 3 ارب 40 کروڑ روپے) تاوان طلب کیا تھا۔ڈی آئی جی کوئٹہ پولیس اور سی ٹی ڈی بلوچستان کے سربراہ اعتزاز گورائیہ نے ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 15 نومبر 2023ء کو محمد مصور کو کوئٹہ کے علاقے ملتانی محلہ سے گھر سے اسکول جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔ پولیس نے واقعے کے بعد فوراً مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جس میں خفیہ اداروں کو بھی شامل کیا گیا۔ تفتیش کے دوران دو ہزار سے زائد گھروں اور بارہ سو کرائے کے مکانات کی تلاشی لی گئی جبکہ ایک ہزار سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا کمپنیوں جیسے فیس بک اور واٹس اپ سے بھی پہلی بار ڈیٹا حاصل کیا گیا جس سے کچھ اہم سراغ ملے۔ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ واردات میں باجوڑ سے تعلق رکھنے والا طیب شاہ اور دو افغان شہری ملوث تھے۔ ملزمان کوئٹہ اور مستونگ میں چار مقامات پر مقیم رہے ۔جعلی شناختی دستاویزات اور نان کسٹم پیڈ گاڑی استعمال کرتے رہے۔ ہر بار پولیس کے قریب پہنچنے سے پہلے وہ اپنا ٹھکانہ بدل لیتے۔ان کا کہنا تھا کہ اپریل کے آخر میں مستونگ کے علاقے دشت کلی منیر میں ایک گھر کی نشاندہی ہوئی جہاں مصور کو رکھا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران ایک خودکش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دوسرا شدت پسند فائرنگ میں مارا گیا۔ مرنے والوں میں سے ایک کی شناخت داعش کے کمانڈر عمران رند کے طور پر ہوئی جو سندھ کے شہر سہون میں ہونے والے ایک بڑے حملے میں بھی مطلوب تھا۔ا ن کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے بعد سیکورٹی اداروں نے مستونگ کے دشوار گزار پہاڑی علاقے اسپلنجی میں سرچ آپریشن شروع کیا۔ کئی ہفتوں کی تلاش کے بعد وہاں ایک مدفون پرانی لاش ملی جس کی شناخت ممکن نہ تھی تاہم ڈی این اے ٹیسٹ سے بعد میں تصدیق ہو گئی کہ یہ محمد مصور کی لاش تھی۔پولیس کے مطابق بچے کو اغوا کے بعد چار مختلف گھروں میں رکھا گیا۔ اغواکار افغانستان اور ایران کے نمبرز استعمال کرتے رہے اور کوئٹہ میں کرایہ داری قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائش حاصل کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس نے مغوی بچے کو زندہ بازیاب کرانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور تمام وسائل استعمال کیے لیکن کامیاب نہیں ہوسکی جس پر ہمیں افسوس ہے۔ ڈی آئی جی اعتزاز گورائیہ نے اعتراف کیا کہ اس کیس میں نظام کی کمزوریاں سامنے آئیں جن میں غیرقانونی تارکین وطن، جعلی دستاویزات، غیر قانونی اسلحہ اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کا استعمال اور قانونِ کرایہ داری پر عملدرآمد کا فقدان شامل ہیں۔ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند کے مطابق حکومت نے اس کیس کو انتہائی سنجیدگی سے لیا وزیراعلیٰ نے ذاتی طور پر اس کی نگرانی کی اور متاثرہ خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔یاد رہے کہ مصور کاکڑ کے والد راز محمد کاکڑ شہر کے معروف جیولر ہیں۔ بچے کے اغوا کے بعد کوئٹہ میں شدید احتجاج کیا گیا، سول سوسائٹی، سیاسی و سماجی تنظیموں، طلبا، اساتذہ اور وکلا نے بلوچستان اسمبلی اور ہائی کورٹ کے سامنے دھرنے دیے، شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتالیں ہوئیں۔مصور قرآن حفظ بھی کر رہا تھا اور اہل خانہ کے بقول وہ خاندان کا لاڈلا بچہ تھا۔ لواحقین نے اغوا کے فوری بعد اندیشہ ظاہر کیا تھا کہ بچے کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے کیونکہ خاندان کا ایک اور بچہ چار سال قبل قتل ہوا تھا اور اْس کے قاتل تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا کیا گیا کے بعد تھا کہ
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔