data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزارت مذہبی امور نے حج 2026 کے لیے عازمین کی لازمی رجسٹریشن کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جو آج سے ملک بھر میں شروع ہو چکی ہے اور 9 جولائی 2025 تک جاری رہے گی۔ وزارت کے مطابق حج رجسٹریشن کے لیے کسی قسم کی فیس ادا نہیں کرنا ہو گی اور یہ عمل مکمل طور پر مفت ہے۔ ترجمان کے مطابق آئندہ سال حج پر جانے کے خواہشمند افراد کے لیے قبل از وقت رجسٹریشن کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ خواہ وہ سرکاری حج اسکیم کا انتخاب کریں یا نجی اسکیم کا، تمام عازمین کے لیے ابتدائی رجسٹریشن لازمی ہے۔ حتیٰ کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بھی اپنی شرکت یقینی بنانے کے لیے رجسٹریشن کرانا ہوگی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ صرف وہی افراد حج 2026 کے لیے اہل تصور کیے جائیں گے جنہوں نے بروقت رجسٹریشن کروا لی ہو۔ رجسٹریشن ملک بھر میں موجود 15 منظور شدہ بینکوں کے ذریعے کی جا سکتی ہے، جہاں خواہشمند افراد اپنا اندراج مکمل کر کے بعد میں سرکاری یا نجی اسکیم کا انتخاب کر سکیں گے۔ اس بار وزارت نے واضح کیا ہے کہ رواں سال نجی حج اسکیم سے رہ جانے والے عازمین کے لیے بھی از سرِ نو رجسٹریشن کرانا لازم ہوگا۔ رجسٹریشن کا یہ عمل حکومتِ سعودی عرب کی ہدایت پر شروع کیا گیا ہے تاکہ ابتدائی اعداد و شمار کی بنیاد پر سعودی حکام کو حج کوٹہ سے متعلق آگاہ کیا جا سکے اور حتمی پالیسی اسی ڈیٹا کی بنیاد پر مرتب کی جا سکے۔ وزارت مذہبی امور نے یہ بھی بتایا کہ حج 2026 کے مکمل اخراجات، سہولیات اور شرائط و ضوابط بعد میں علیحدہ سے حج پالیسی کی صورت میں جاری کیے جائیں گے۔ عوام کو تاکید کی گئی ہے کہ اگر وہ آئندہ سال حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں تو فوری طور پر رجسٹریشن مکمل کر لیں تاکہ کسی ممکنہ پریشانی سے بچا جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ