UrduPoint:
2026-06-02@23:50:36 GMT
سیاست بند گلی میں ہے اور اسٹیبلشمنٹ قدم بہ قدم اپنے اہداف پر گرفت مضبوط کررہی ہے
اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT
لاہور( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ آئی پی اے ۔ 28 جون 2025ء ) نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل مِلی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے امریکہ، اسرائیل کے مقابلہ میں جنگ کی فتح ”یومِ فتح“ پر خطابِ جمعہ اور بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل غزہ اور ایران سے مزاحمت پر سٹپٹا گئے ہیں، انڈیا کو افواجِ پاکستان اور پوری قوم کے اتحاد نے بڑی شکست سے دوچار کیا اور ایران کی عظیم فتح نے عالمِ اسلام کے لیے مستقبل کے روشن امکانات پیدا کردیے ہیں۔
مِلی یکجہتی کے صوبائی صدور مولانا ہدایت الرحمن، اسداللہ بھٹو، پیر نورالحسنین گیلانی، محمد ایوب مُغل، احمد نورانی صدیقی، اسد عباس نقوی، زاہد اخوندزادہ، سید اُسامہ بخاری، عبدالعزیز ثانی نے مشترکہ بیان میں کہا کہ محرم الحرام میں مِلی یکجہتی کونسل ملک بھر میں امن، وحدت، یکجہتی، باہمی احترام، مقدسات کے احترام کے لیے آزمائش اور رُکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔(جاری ہے)
فلسطین، کشمیر پر وقت کے فرعون اور یزید حملہ آور ہیں۔ یہود و ہنود کو امریکہ، یورپ اور اسلام دشمن قوتوں کی مکمل تائید اور سرپرستی حاصل ہے۔ عالمِ اسلام کے لیے اتحاد اور عسکری محاذ پر جہاد اور مشترکہ حکمتِ عملی کے سِوا کوئی چارہ نہیں۔ لیاقت بلوچ نے منصورہ میں جنوبی پنجاب اور سندھ سے وفود اور لاہور میں صحافیوں، پوڈکاسٹ انٹرویوز اور نجی ٹی وی چینل پروگرام میں کہا کہ دریائے سوات میں سیاحوں کے ڈوب کر جاں بحق ہونے کا واقعہ پوری قوم کے لیے صدمہ اور المیہ ہے۔ سیاحتی مقامات پر حادثات وفاقی اور صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی اور انتظامی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے ٹورازم کے لیے بڑی مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔ حکومتیں تعلیم، صحت، روزگار، بلدیات، امنِ عامہ اور ٹورازم کے محاذوں پر مکمل ناکام ہیں، عوام لاوارث اور بییار و مددگار ہیں۔ لیاقت بلوچ نے سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلے پر کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ پر اس فیصلے کے دُوررَس سنسنی اثرات مرتب ہونگے۔ سیاسی بحرانوں، سیاسی ڈیڈلاک میں اسٹیبلشمنٹ قدم بہ قدم اپنے اہداف کی طرف بڑھ رہی اور گرفت مضبوط کررہی ہے۔ سیاست بند گلی میں ہے؛ جمہوریت، پارلیمنٹ اور آئین و عدلیہ کے لیے خطرات تیز تر ہیں۔ لیاقت بلوچ اور مِلی یکجہتی کونسل کے صوبائی صدور نے کہا کہ وفاق اور صوبوں میں آئی ایم ایف، اعدادو شمار کے جھوٹ، سُود، کرپشن کے سرپرست بجٹ عوام پر مسلّط کردیے گئے ہیں۔ زراعت، صنعت، تجارت، تعمیراتی صنعت پر بییقینی مسلّط رہے گی، بیروزگاری بڑھے گی اور عوام کے لیے احتجاج کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔ 78 سال سے معیشت کو خودانحصاری، خودداری، اپنے وسائل پر اعتماد، قومی اعتماد کی بحالی کی بجائے ہر دور کی حکومتوں میں اغیار کے آلہ کار معاشی ماہرین نے قومی معیشت کو تباہ کردیا؛ ملک قرضوں، کشکول، کرپشن اور سُود کی لعنت کے بوجھ تلے سِسک رہا ہے۔ اسلامی معاشی انقلابی نظام، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ پر عملدرآمد ہی معاشی بحرانوں کا حل ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے م لی یکجہتی لیاقت بلوچ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔