وزیر اعلیٰ مریم نواز کا ڈی جی خان میں الیکٹرو بس پراجیکٹ کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 25 ستمبر2025ء) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ڈیرہ غازیخان میں الیکٹرو بس پراجیکٹ کا افتتاح کرتے ہوئے ڈیرہ غازیخان میں بھی میٹرو بس سروس لانے کا اعلان کیا ۔ساوتھ پنجاب میں ہر ماہ سیکرٹریٹ لگانے کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعلی نے ڈیرہ غازیخان ڈویژن کیلئے ایک سو ایک الیکٹرو بسیں لانے اورراجن پو ر، لیہ، مظفرگڑھ، تونسہ سمیت ہر ضلع میں الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔
مریم نواز نے سرائیکی زبان سے تقریر کا آغاز کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ''تساں دے کول آ کے، بہوں خوشی تھئی اے، تہاکوں دیکھ کے ہاں ٹھر گیا اے ''۔جہاں تخت لاہو رہے وہاں تخت بہاولپور، رحیم یار خان، ملتان اور تخت ڈیرہ غا زیخان ہے۔جنوبی پنجاب والو ں نے عزت او رپیار سے چادر اوڑھائی، ہمیشہ یاد رکھوں گی۔(جاری ہے)
الیکٹرو بس کیلئے ڈی جی خان والوں کی خوشی دیکھ کر حوصلہ بڑھ رہا ہے۔
اربوں خرچ ہو جائیں، ڈیرہ غازیخان کو نقصان نہیں ہونے دیں گے۔وزیر اعلی، کابینہ او رپوری ٹیم جاگ رہی ہے، عوام کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔پنجاب کے عوام کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دوں گی۔مریم نواز کے عوام کی طرف اٹھنے والی انگلی توڑ دے گی۔پنجاب میں دوسرے صوبوں سے اڑھائی کروڑ افراد روزگار کیلئے مقیم ہیں۔پنجاب کے ہسپتال دوسرے صوبوں کے عوام کیلئے کھلے ہیں۔سندھ میں آفت آئے تو پنجاب ساتھ کھڑا ہو گا۔زرداری میرے بزرگ اور بلاول چھوٹا بھائی ہے مگر پیپلز پارٹی کے ترجمانو ں کو بھی سمجھائیں۔ سیلاب کے معاملے میں سیاست کی جا رہی ہے۔میرے لیے ساوتھ، سینٹرل اور اپر پنجاب میں کوئی فرق نہیں، سب برابر ہیں اور سب کی وزیر اعلی ہوں۔ سنیٹرل پنجاب میرے لیے ماہ نور کی طرح، اپر پنجاب مہرالنسا کی طرح اور جنوبی پنجاب میرے لیے جنید بیٹے کی طرح ہے۔ساوتھ او رسینٹرل پنجاب کی بات اقتدار کی ہوس رکھنے والے لوگ کرتے ہیں۔ساوتھ پنجاب میں سارے پراجیکٹ پاکستان مسلم لیگ ن لے کر آئی۔نواز شریف موٹر وے اور ایکسپریس وے ساتھ پنجاب میں لائے۔ساوتھ پنجاب میں بلکہ ڈی جی خان میں پہلی الیکٹرک بس نوازشریف کی بیٹی لے کر آئی۔سی ایم دفتر میں تصویر فریم میں لگا کر رکھنے کیلئے نہیں ہوتا عوام کے ساتھ ہونا چاہئے۔جو ساوتھ پنجاب کی بات کرتے ہیں انہوں نے اپنے دور میں دھیلے کا کام نہیں کیا۔ساوتھ پنجاب کو ان لوگو ں کے دور میں کچھ نہیں ملا۔منصوبے بڑے شہروں میں آ کر بڑے شہروں میں ختم ہوجاتے تھے۔الیکٹرو بس لاہور، راولپنڈی یا فیصل آباد نہیں بلکہ میانوالی، وزیر آباد اور ڈی جی خان میں پہلے لانچ کی ہے۔غذائی قلت کے شکار بچوں کیلئے پہلا پراجیکٹ جنوبی پنجاب کے اضلاع میں شروع کیا۔میرے وزیرسینٹرل پنجاب نہیں بلکہ جنوبی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں بیٹھے رہے۔ساوتھ پنجاب کی بار بار بات کر کے لکیر کھینچنے کی کوشش کی جاتی ہے، میرے ذہن میں ا یسا کوئی فرق نہیں۔پہلے ڈی جی خان کے لوگ خوابوں پر گزارا کرتے تھے اب تعبیر ملتی ہے۔مجھے فخر ہے بارڈر ملٹری پولیس میں پنجاب کی بیٹیاں یونیفارم پہن کر شریک ہیں۔انہوں نے کہا کہ الیکٹرو بس عوام کیلئے تحفہ ہے اورسپیشل افراد کو عزت سے بس میں سوار کرانے والا عملہ قابل تحسین ہے۔جو عوام کا خیال نہ رکھے، اسے حکمرانی کا کوئی حق نہیں۔وزیراعلی نے کہا کہ تین دریاوں میں اونچے درجے کا سیلاب آیا، تین ماہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں لیکن ہم نے تیاری کر رکھی تھی۔میرے وزیر او رپوری ٹیم سیلاب کے دوران راشن تقسیم کرتی رہی اور خیمے لگواتی رہی۔جب تک لوگوں کو کھانا اور ٹینٹ نہیں ملے،مریم اورنگزیب اور دیگر وزیر چین سے نہیں بیٹھے۔انہوںنے کہا کہ بیرونی امداد مانگنے کا مشورہ اپنے پاس رکھیں، پنجاب اپنے وسائل سے خود انتظام کرے گا۔نواز شریف کی بیٹی ہوں، امداد کیلئے ہاتھ نہیں پھیلاوں گی۔کب تک پاکستان دوسر وں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا رہے گا۔این ایف سی ایوارڈ سے اربوں کھربوں ہر صوبے کو مل رہے ہیں، وہ عوام پر خرچ نہیں کرنے تو کہاں کرنے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عوام کا پیسہ عوام پر خرچ نہیں کرنا تو کہاں خرچ کریں گے۔وزیراعظم شہباز شریف سے ایک روپیہ نہ مانگااور نہ لیا ہے۔اربوں روپے سیلاب زدگان کے انخلا، ریسکیو اور ریلیف پر خر چ کر دیئے ہیں۔سیلا ب ز دگان کو بی آئی ایس پی سے دس ہزار نہیں بلکہ دس لاکھ روپے تک دینا چاہتے ہیں۔جس کا گھر گرا، مویشی مر گئے، فصلو ں کا نقصان ہوا سب کے نقصان پورے کرنا چاہتی ہوں۔جس کا لاکھوں کا نقصان ہوا وہ بی آئی ایس پی سے دس پندرہ ہزار لے کر کیا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ اپنی چھت اپنا گھرسمیت دیگر بڑے پراجیکٹ اپنے ہی وسائل سے چلا رہے ہیں۔پنجاب میں مزدور اور ورکرز کے دو ملین گھرانوں کو راشن مل رہا ہے۔ ساڑھے تین ارب ر وپے رودکوہیوں کے سدباب کیلئے خرچ کیے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دوسرے شہروں کو ملنے والی الیکٹرو بس اور دیگر پراجیکٹ سب کو ملیں گے، تفریق نہیں ہو گی۔الیکٹرو بس جیسے پراجیکٹ عوام کی امانت ہیں ان کی حفاظت عوام کے ساتھ ساتھ سب کی ذمہ داری ہے۔جیسے اپنے گھر اور سواری کو صاف رکھتے ہیں ایسے ہی الیکٹرو بس کو بھی صاف اور حفاظت سے رکھیں۔انہوں نے کہا کہ الیکٹروبس کا خیال رکھنا عوام کی ذمہ داری ہے،نقصان پہنچاتے ہوئے یا گندگی ڈالتے ہوئے دیکھیں تو روکیں۔الیکٹروبس جیسے پراجیکٹ کو نقصان پہنچانا، عوام کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔میانوالی میں پتھر مار کر الیکٹرو بس کا شیشہ توڑنے والے کو پکڑ لیا ہے، نشان عبرت بنائیں گے۔بس کا شیشہ توڑنے سے کسی مسافر کو بھی نقصان پہنچ سکتا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ڈیرہ غازیخان انہوں نے کہا ساوتھ پنجاب الیکٹرو بس وزیر اعلی مریم نواز نے کہا کہ ڈی جی خان پنجاب کی پنجاب کے عوام کی
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔