علیزے شاہ کے پراسرار شخص کے ساتھ تعلقات، مداحوں میں تجسس
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
پاکستانی اداکارہ علیزے شاہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر چہ میگوئیوں کا مرکز بن گئی ہیں، لیکن اس بار ان کے بولڈ انداز کے بجائے ان کی ذاتی زندگی کے ایک نئے پہلو نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی ہے۔
حال ہی میں انسٹاگرام پر شیئر کی گئی اسٹوریز میں علیزے کو ایک نامعلوم شخص کے ساتھ وقت گزارتے دیکھا گیا، جس نے فینز کے درمیان تجسس کی لہر دوڑا دی۔ ایک اسٹوری میں علیزے کو اپنے اس ’مسٹری مین‘ کے کندھے پر ہاتھ رکھے دکھایا گیا، جس کے ساتھ انہوں نے دو نیلے دل کے ایموجیز بھی شامل کیے تھے۔ ایک اور ویڈیو میں یہی شخص علیزے کے لیے کھانا پیش کرتا نظر آیا۔
صورتحال اس وقت اور بھی دلچسپ ہو گئی جب علیزے نے ایک مختصر کلپ شیئر کیا جس میں ایک شخص ان کے کمرے میں ورزش کرتا دکھائی دیا۔ اس ویڈیو میں علیزے نے کہا، ’’صبح کے 8 بج رہے ہیں‘‘، جس کے بعد انہوں نے اس شخص کو آرام کرنے کا کہا۔
سوشل میڈیا صارفین نے ان ویڈیوز کو دیکھتے ہی مختلف قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ کئی صارفین کا خیال ہے کہ علیزے نے اپنا دل کسی کو دے دیا ہے اور جلد ہی وہ اسے باقاعدہ طور پر متعارف کروائیں گی۔ کچھ نے کہا کہ اب انہیں اپنی زندگی میں ایک خاص شخص مل گیا ہے۔
تاہم، علیزے شاہ نے اب تک کسی بھی رومانوی تعلق کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔ ان کی یہ پراسرار پوسٹس فینز کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہیں، جنہیں اب علیزے کے باضابطہ بیان کا بے چینی سے انتظار ہے۔
یہ پہلی بار نہیں ہے جب علیزے شاہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بنی ہیں، لیکن اس بار ان کی ذاتی زندگی کے اس نئے پہلو نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ کیا واقعی علیزے کسی رومانوی رشتے میں بندھ چکی ہیں؟ اس سوال کا جواب تو شاید وقت ہی دے گا، لیکن فی الحال سوشل میڈیا پر یہ موضوع گرم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا علیزے شاہ
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔