Daily Ausaf:
2026-06-03@06:58:20 GMT

لسانی فتنہ گروں کا فساد

اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT

لسانی شناخت کو سیاست کی بنیاد بنانے والی تنظیمیں ایک خطرناک راستے پر چل رہی ہیں ۔دو صوبے لسانی تعصب کی آگ کی زد میں ہیں۔ پشتون اور بلوچ لسانی اکائیوں کو قومی دھارے سے جدا کرنے کی سر توڑ کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ دونوں صوبے دہشت گرد گروہوں کی کاروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا دہشت گرد حملوں میں ملوث کسی لسانی گروہ کے حقوق کے ضامن بن سکتے ہیں؟
معاملہ اس وقت زیادہ سنگین ہو جاتا ہے جب کا لعدم تنظیموں کے مفرور لیڈر سرحد پار بیٹھ کر لسانی حقوق کا واویلا مچاتے ہیں۔ ریاست کی وحدت کو پارہ پارہ کرنے کے لیے زہریلے خیالات سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائے جا رہے ہیں ۔ گرفتار دہشت گردوں کے انکشافات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ازلی دشمن بھارت لسانی منافرت پھیلانے والے گروہوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ متعدد سوشل میڈیا اکائونٹس ہندوستان اور افغانستان سے چلائے جا رہے ہیں۔کا لعدم دہشت گردتنظیموں اور نام نہاد لسانی حقوق کی تنظیموں کا گٹھ جوڑ سمجھنا بہت ضروری ہے ۔ کا لعدم بی ایل اے کے دہشت گرد حملوں اور خونریزی سے توجہ ہٹانے کے لیے نام نہاد بلوچ یکجہتی کمیٹی نے جوشرپسندانہ رویہ اختیار کیے رکھا وہ نہایت مشکوک اور قابل اعتراض ہے ۔
بلوچستان کی سرزمین پر بے گناہ شہریوں کے بہنے والے خون کی مذمت کرنے کے بجائے یکجہتی کمیٹی کے حمایتی ریاستی اداروں کے خلاف مغلظات بکتے رہے۔ دہشت گردوں کے جسد خا کی چھیننے کے لیے تھانوں اور ہسپتالوں پر دھاوے بولے گئے ۔ایک جانب بلوچستان کی پسماندگی کا رونا رو کر وفاق اور پنجاب کے خلاف دشنام طرازی کی جاتی ہے تو دوسری طرف ترقی اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے والے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ جعفر ایکسپریس ٹرین ہائی جیکنگ کی واردات کے موقع پر باہوت بلوچ نامی دہشت گردوں کا حامی بھارتی چینلوں پر بیٹھ کر ریاست کے خلاف زہر اگلتا رہا ۔ بلوچستان کی طرح خیبر پختوانخوا میں بھی لسانی فتنہ گری زور پکڑ رہی ہے ۔برسوں سے افغان سر حد سے منسلک علاقے دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے افواج پاکستان نے بے مثال کردار ادا کیا ہے ۔
حیرت انگیز طور پر پشتونوں کے نام نہاد خیر خواہ دہشت گردوں کے بجائے ان اداروں کو ہدف تنقید بنا رہے ہیں جو عوام کی حفاظت کے لیے اپنا خون بہا رہے ہیں ۔یہ طرز عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ لسانی قوم پرست گروہ دراصل ریاست پر حملہ آور ہونے والے دہشت گردوں کی خیر خواہ ہیں۔ پشتونوں کے حقوق کی نام نہاد حمایتی پی ٹی ایم کی منافقت بے نقاب ہو چکی ہے۔ زہریلے بیانات کے ذریعے عوام کے جذبات مشتعل کرنے کے لیے کا لعدم پی ٹی ایم کی قیادت پشتونوں کی مظلومیت کا واویلا مچاتی رہتی ہے ۔حیرت انگیز طور پر اس تنظیم نے افغانستان کی سرزمین سے پشتونوں کو ہدف بنانے والے دہشت گرد گروہ فتنہ خوارج کے خلاف نہ کوئی بیان دیا نہ ہی کوئی تقریر کی۔
یہ تنظیم چند برس پہلے کراچی میں قتل کیے جانے والے پشتون نوجوانوں نقیب اللہ محسود کے حق میں مظاہروں کے بعد منظر عام پر ابھری ۔لسانی تعصب کی بنیاد پر عوامی جذبات بھڑکا کر رفتہ رفتہ اس تنظیم نے پشتون کارڈ کھیلنا شروع کیا ۔بدقسمتی یہ ہے کہ جذباتی نعروں اور مظلومیت کی درد بھری داستانوں سے عوام کو جھانسا دینے والی یہ تنظیمیں آج تک کسی مسئلے کاکوئی قابل عمل حل پیش نہیں کر سکیں ۔ منظور پشتین اور محسن داوڑ جیسے قوم پرست کردار مقامی آبادی سمیت ریاستی مفادات کے بر خلاف ملک دشمن قوتوں کے ترجمان بنے ہوئے ہیں۔
گزشتہ پاک بھارت جنگی کشیدگی کے دوران لسانی فتنہ گروں نے ریاست کے خلاف جی بھر کر زہر اگلا ۔سکائی نیوز کی افغان نژاد صحافی یلدا حاکم نے جب پاکستان کے خلاف جانبدارنہ رویہ اختیار کرتے ہوئے جھوٹے بیانے کا پرچار کیا تو این ڈی ایم کے لیڈر محسن داوڑ نے کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لسانی اور علاقائی بنیادوں پر اس جھوٹے بیانیے کا دفاع کیا ۔پاکستانی شہریت کے حامل نام نہاد قوم پرست لیڈر نے ریاستی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے افغان نژاد جانبدار صحافی خاتون کی حمایت کر کے اپنے مشکوک طرز سیاست پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے ۔
پشتون اور بلوچ حقوق کی آڑ میں دیگر لسانی اکائیوں کو ہدف تنقید بنانے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ متعدد پنجابی ،سندھی اور کشمیری فرزندان وطن پشتون عوام کا دفاع کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ لسانی فتنہ گرتعصب کی آگ بھڑکا کر ایک جانب قومی وحدت ختم کرنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب کا لعدم دہشت گرد تنظیموں کے وکیل صفائی بنے ہوئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کرنے کے لیے لسانی فتنہ نام نہاد رہے ہیں کا لعدم کے خلاف

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • داتا دربار کے نذرانوں میں کروڑوں کا غبن کرنے والے 5 افسران کو سزا
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟