شمالی وزیرستان میں خود کش دھماکا،13 جوان شہید،14 خوارج ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد /راولپنڈی /پشاور (صباح نیوز /این این آئی /مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے میں 13جوان شہید ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں 14دہشت گرد مارے گئے۔ آئی ایس پی آرکے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر ایک منصوبہ بند حملہ ہوا، جسے بھارت کی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد وں نے کیا۔ ایک خودکش حملہ آور نے قافلے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جسے فورسز نے بروقت ناکام بنایا‘ حملے کے دوران دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی قافلے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 13بہادر جوان شہید ہو گئے۔ اس واقعے میں 3 عام شہری بھی زخمی ہوئے جن میں 2 بچے اور ایک خاتون شامل ہے‘ شہدا میں صوبیدار زاہد اقبال کی عمر 45 سال تعلق ضلع کرک، حوالدار سہراب خان کی عمر39 سال تعلق نصیرآباد، شہید حوالدار میاں یوسف کی عمر41 برس تعلق ضلع بونیر، نائیک خطاب شاہ کی عمر 34 سال تعلق ضلع لوئر دیر، لانس نائیک اسماعیل کی عمر 32سال تعلق ضلع نصیر آباد، سپاہی روحیل کی عمر 30 سال تعلق ضلع میرپور خاص، سپاہی محمد رمضان کی عمر 33 برس تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان، سپاہی نواب کی عمر 30 سال تعلق ضلع کوئٹہ، سپاہی زبیر احمد کی عمر 24 سال تعلق ضلع نصیر آباد، سپاہی محمد ساہکی کی عمر31 برس تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان، سپاہی ہاشم عباسی کی عمر20 سال تعلق ضلع ایبٹ آباد، سپاہی مدثر اعجاز کی عمر 25 سال تعلق ضلع لیہ اور سپاہی منظر علی کی عمر 23 برس تعلق ضلع مردان سے تھا، شامل ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق واقعے کے فوری بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے میں جامع سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 14دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ وحشیانہ اور بزدلانہ حملے کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا، پاکستان کی سیکورٹی فورسز قوم کے شانہ بشانہ دہشت گردی کے خلاف ڈٹ کر کھڑی رہیں گی، ہمارے بہادر سپاہیوں اور معصوم شہریوں کی قربانیاں دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کو تقویت دیتی ہیں۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں 13 جوانوں کی شہادت پر دکھ اور افسو س کا اظہار کیا، اپنے الگ الگ بیانات میں دونوں نے شہید ہونے والے سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کرسکتے، چھپے ہوئے دشمن کے خلاف آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث ہر سہولت کار، مددگار اور مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کہیں بھی ہو، خطے میں دہشت گردی کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ہفتے کو کور ہیڈکوارٹر پشاور کا دورہ کیا جہاں کور کمانڈر پشاور نے ان کا استقبال کیا۔ انہیں ملک میں موجودہ سیکورٹی صورتحال اور جاری انسداد دہشت گردی آپریشنز پر بریفنگ دی گئی۔فیلڈ مارشل نے بنوں گیریژن میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے شہدا کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور سی ایم ایچ بنوں میں زیر علاج زخمی جوانوں کی عیادت کی۔اس موقع پر آرمی چیف نے مادرِ وطن کے دفاع میں جان قربان کرنے والے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے فتنہ الخوارج کے خلاف سیکورٹی فورسز کی جرأت و بہادری کو سراہا۔ فیلڈ مارشل نے کہا کہ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور پاکستان سے دہشت گردی کی ہر شکل و صورت کے مکمل خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، دہشت گردی میں ملوث ہر سہولت کار، مددگار اور مجرم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، چاہے وہ کوئی بھی ہو اور کہیں بھی ہو، خطے میں دہشت گردی کے اصل چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا۔آرمی چیف نے کہا کہ ہر بے گناہ پاکستانی کے خون کا حساب ضرور لیا جائے گا اور ملک کے استحکام کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کا فوری اور سخت جواب دیا جائے گا۔فیلڈ مارشل نے خیبر پختونخوا پولیس سمیت سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور ہدایت دی کہ متعلقہ سرکاری ادارے اس ضمن میں فوری اقدامات کریں، پاک فوج قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تربیت اور استعداد میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ قوم جوانوں کی انمٹ قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے میرعلی میں ہونے والے خود کش حملے کی شدید مذمت کی اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔بیان میں علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ میں ان سیکورٹی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ملک اور قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول زرداری نے شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں خود کش دھماکے میں13سیکورٹی اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاری بیان میں بلاول زرداری نے مادر وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے شہید اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے شہید اہلکاروں کے خون کے ہر قطرے کا حساب لینے اور دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔
شمالی وزیرستان
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی میں سیکورٹی فورسز کے دہشت گردی کے کا اظہار کیا سال تعلق ضلع فیلڈ مارشل کرنے والے کے خلاف جائے گا کی عمر بھی ہو ایس پی نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔