Jasarat News:
2026-07-24@03:38:48 GMT

ٹیکٹیکل تعلق یا نئی اسٹرٹیجک شراکت؟

اشاعت کی تاریخ: 28th, June 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

۔18 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک خصوصی ظہرانے پر مدعو کیا۔ یہ ملاقات سفارتی لحاظ سے غیر معمولی ہے کیونکہ اس سے پہلے کبھی بھی کسی امریکی صدر نے کسی پاکستانی آرمی چیف سے براہ راست ملاقات نہیں کی جب وہ ریاست کے سربراہ نہ ہوں۔ اس ملاقات کا وقت اور نوعیت کئی اہم سوالات کو جنم دیتے ہیں، خاص طور پر جنوبی ایشیائی جغرافیائی سیاست کے تناظر میں۔
اسٹرٹیجک اہمیت: صدر ٹرمپ کی جانب سے عاصم منیر کو دعوت دینا، نہ کہ کسی سویلین قیادت کو، اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان میں سیکورٹی اور خارجہ پالیسی کا اصل کنٹرول فوج کے پاس ہے۔ ٹرمپ کا براہ راست آرمی چیف سے رابطہ، پاکستان کی کمزور جمہوری اداروں کو نظر انداز کرتے ہوئے، اس بات کا اظہار ہے کہ واشنگٹن کو اصل طاقت کہاں نظر آتی ہے۔ یہ اقدام پاکستان کے سویلین نظام کی مزید کمزوری کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ یہ فوجی بالادستی کو مزید جواز فراہم کرتا ہے۔ تاہم امریکا کے لیے یہ ایک حقیقت پسندانہ حکمت عملی بھی ہے کیونکہ دہشت گردی، جوہری استحکام اور علاقائی سلامتی جیسے معاملات میں مؤثر شراکت داری فوجی قیادت سے ہی ممکن ہے۔
پاکستان کا جوہری پروگرام: پاکستان دنیا کی پانچویں بڑا جوہری طاقت ہے، جس کے پاس 165 سے 200 کے درمیان وارہیڈز ہیں، جن میں سے کئی بھارت کے خلاف میدان جنگ میں استعمال کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ امریکا طویل عرصے سے پاکستان کے جوہری پروگرام کی سیکورٹی، کنٹرول اور دہشت گرد گروہوں کے ہاتھ لگنے کے امکانات سے پریشان رہا ہے، خاص طور پر ڈاکٹر اے کیو خان کے نیٹ ورک کے بعد۔ ٹرمپ کی منیر سے ملاقات کا ایک مقصد ممکنہ طور پر اس بات کی یقین دہانی حاصل کرنا تھا کہ ایران تنازعے کے دوران پاکستان کسی بھی غیر مستحکم جوہری طرزعمل سے باز رہے گا اور ایران کو جوہری مہارت کی منتقلی نہیں کرے گا۔
ایران تنازع میں پاکستان کا کردار: یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکا اور اسرائیل، ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں تیز کر رہے ہیں۔ پاکستان کی ایران کے ساتھ 909 کلومیٹر طویل سرحد اور تاریخی تعلقات اسے اس تنازعے میں ایک کلیدی کھلاڑی بناتے ہیں۔
امریکا چاہتا ہے کہ پاکستان: 1۔ ایرانی اہداف پر حملوں کے لیے فضائی حدود فراہم کرے۔ (جیسا کہ افغانستان جنگ میں کیا گیا تھا) 2۔ ایران کے حمایت یافتہ گروہوں جیسے ’’زینبیون بریگیڈ‘‘ کے خلاف کارروائی کرے۔ مگر پاکستان کے لیے یہ نہایت نازک معاملہ ہے۔ ایران کے خلاف واضح حمایت سے پاکستان میں موجود اہل تشیع میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، ایران بلوچستان میں علٰیحدگی پسند تحریکوں کی حمایت کر سکتا ہے۔ اسی لیے امکان ہے کہ پاکستان پردے کے پیچھے معلوماتی تعاون کرے گا اور بظاہر غیرجانبداری کا مظاہرہ کرے گا۔
بھارت کو توازن میں رکھنے کی کوشش: ٹرمپ کی یہ ملاقات بھارت کے لیے بھی ایک پیغام ہو سکتی ہے کہ امریکا کی حمایت خودکار نہیں ہے۔ یہ بھارت پر دباؤ ڈالنے کا حربہ ہو سکتا ہے تاکہ وہ ایران پر سخت موقف اپنائے یا مسئلہ کشمیر پر نرم رویہ اختیار کرے۔ امریکا شاید پاکستان کو یہ موقع بھی دینا چاہتا ہے کہ وہ بھارت مخالف دہشت گرد گروہوں جیسے لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کر کے اپنی عالمی ساکھ بحال کرے۔ اس سے امریکا کی توجہ ایران تنازع پر مرکوز رہ سکتی ہے۔
چین سے دور کرنے کی کوشش: چین کے ساتھ پاکستان کی گہری معاشی و عسکری شراکت داری (جیسے CPEC میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری) نے بیجنگ کو اسلام آباد پر گہرا اثر رسوخ دے دیا ہے۔ ٹرمپ کی یہ کوشش شاید پاکستان کو چین کے اثر سے نکالنے کی ایک کوشش ہو، جس کے تحت اسے فوجی سازو سامان (مثلاً F-16 طیارے) یا آئی ایم ایف بیل آؤٹ جیسے اقتصادی مراعات دی جا سکتی ہیں۔ تاہم، مکمل اتحاد تبدیلی مشکل ہے کیونکہ چین پر پاکستان کا انحصار بہت گہرا ہو چکا ہے۔ زیادہ امکان ہے کہ پاکستان چین سے اتحاد برقرار رکھتے ہوئے امریکا سے محدود فائدے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
پاکستان اور امریکا کے اندرونی اثرات: پاکستان میں فوج اس ملاقات کو ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کرے گی۔ معاشی بحران اور سیاسی عدم استحکام کے دور میں، فوج کی امریکا تک براہ راست رسائی اس کے قومی محافظ کے تاثر کو تقویت دیتی ہے۔ ٹرمپ کے لیے، یہ قدم ان کے ’’طاقتور لیڈر‘‘ والی سفارت کاری کا تسلسل ہے۔ وہ روایتی پروٹوکول کو توڑ کر عملی اہداف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی، یہ قدم ان کے ناقدین کو جواب بھی ہے جو انہیں خطے میں عدم دلچسپی کا الزام دے سکتے تھے۔
وقتی حکمت عملی یا نئی صف بندی؟: خلاصہ یہ ہے کہ یہ ملاقات ایک عارضی حکمت عملی لگتی ہے نہ کہ کوئی نئی اسٹرٹیجک شراکت۔ امریکا کا اصل ہدف: ایران تنازع میں پاکستان کی غیر جانبداری، چین و روس کے ساتھ کسی ممکنہ مخالف اتحاد کو روکنا، بھارت پر دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ پاکستان غالباً محتاط تعاون کرے گا، مگر ایران یا چین سے کھلی مخالفت سے گریز کرے گا۔ آنے والے ہفتے طے کریں گے کہ یہ صرف ایک وقتی سفارتی اقدام تھا یا واقعی کوئی بڑی صف بندی کی شروعات۔ فی الحال، یہ جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی پیچیدہ بڑی طاقتوں کی سیاست کی ایک اور مثال ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہے کہ پاکستان پاکستان کی یہ ملاقات ہے کیونکہ ایران کے ٹرمپ کی کے خلاف کے لیے کرے گا

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران