ملاقات میں افغان قونصل جنرل نے کہا کہ ٹی ٹی پی افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے حق میں بہتر نہیں ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ جنگ و جدل کی بجائے سیاسی رہنما اور علماءکرام مل بیٹھ کر اسکا حل نکالیں۔ اسلام ٹائمز۔ افغان قونصل جنرل سید عبدالجبار تخاری نے کہا ہے کہ ٹی ٹی پی افغانستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے حق میں بہتر نہیں ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ جنگ و جدل کی بجائے سیاسی رہنما اور علماءکرام مل بیٹھ کر اسکا حل نکالیں، ٹرمپ سمجھتا ہے کہ پوری دنیا کی طرح وہ طالبان کو بھی ڈرائے دھمکائے گا، ان کے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ و گولہ بارود ہے اور ہمارے پاس صرف اسلام و ایمان کی دولت ہے، اگر ان کی اتنی جرأت ہوتی تو نیٹو کے لاﺅ لشکر کے ساتھ اپنا سامان چھوڑ کر نہ بھاگتے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے افغان قونصلیٹ کراچی میں ملی یکجہتی کونسل سندھ کے صدر اسداللہ بھٹو کی زیر قیادت ملاقات کرنے والے وفد سے بات چیت کے دوران کیا۔ وفد میں کونسل کے دیگر عہدیداران علامہ قاضی احمد نورانی، مسلم پرویز، محمد حسین محنتی، علامہ عقیل انجم قادری، مولانا عبدالقدوس احمدانی اور مجاہد چنا شامل تھے۔

افغان قونصل جنرل نے کہا کہ امریکا ایک سازش کے تحت بھی اپنا اسلحہ و گولہ بارود چھوڑ کر گیا ہے، تاکہ یہ لوگ آپس میں لڑیں، مگر امیر المومنین نے عام معافی کے اعلان کے بعد سب نے اسلحہ جمع کرا دیا اور ان کی یہ سازش بھی ناکام ہوگئی انہوں نے کہا کہ امریکا 20 سال یہاں رہا مگر فلاح و بہبود کا کچھ کام نہیں کیا، بلکہ اس کا لیا گیا قرضہ ہم اتار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج افغانستان میں امن ہے اور وہ ترقی کی طرف گامزن ہے، بجلی، نہر، سڑکوں راستوں، ریلوے سمیت دیگر ترقیاتی کام جاری ہیں، ان کے ثمرات آئندہ چند سالوں میں مزید نمایاں ہوں گے۔ ملی یکجہتی کونسل کے وفد نے سرحد پار دہشتگردی کے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ بات چیت کے ذریعے اپنے معاملات حل کریں۔

کونسل کے رہنماؤں نے کہا کہ پاک افغان بہتر تعلقات سے ناصرف دونوں ملک خطے میں مزید طاقتور ہونگے، بلکہ ایک دوسرے کا دفاع کرنے والے بھی بن سکتے ہیں۔ اس موقع پر اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کی ترقی اور امن ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، امریکی صدر ٹرمپ کا بگرام ایئر بیس امریکا کے حوالے کرنے کا مطالبہ اور ایسا نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دھمکی قابل مذمت اور اس کے مذموم عزائم کا ایک اظہار ہے، بگرام ایئر بیس امریکا کو دینے سے انکار پر مبنی افغان حکومت کا جرائتمندانہ فیصلہ قابل قدر ہے، اس فیصلے سے پاکستان سمیت پوری دنیا میں افغان حکومت کی نیک نامی ہو رہی ہے، ثابت ہوا کہ مزاحمت میں ہی زندگی اور غلامی موت ہے۔ رہنماﺅں نے حالیہ زلزلے میں قیمتی انسانی جانوں و املاک کے نقصان پر اظہار افسوس اور مرحومین کی درجات بلندی کیلئے دعائے مغفرت بھی کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: افغان قونصل جنرل نے کہا کہ کونسل کے

پڑھیں:

جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے

جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔

وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔

تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔

اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔

جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔

جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی