وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات بہت ہی حوصلہ افزا تھی، تجارت، آئی ٹی و دیگر شعبوں میں امریکا سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر سے ملاقات میں معیشت، انسداد دہشت گردی، معدنیات، اے آئی، آئی ٹی، کرپٹو پر بات ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ٹیرف کے معاملے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا، پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کا مناسب تعین ہوگا، پاک امریکا تجارتی معاہدے باہمی مفادات کے تحت ہوں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب گیا چالیس سال میں اس طرح کا استقبال میں نے نہیں دیکھا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ میں لیڈ کیا، انھوں نے دانشمندی سے افواج پاکستان کو لیڈ کیا، میں نے کہا ہم نے جنگ جیت لی، انکے 7 طیارے گرا دیئے، ہرجگہ حملے کیے، ان کا دماغ چکرا گیا، اب ہم نے اس سے آگے نہیں جانا اور جنگ بندی قبول کرلی۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معاشی صورتحال مائیکرو لیول پر مستحکم ہوچکی ہے، سمندرپار پاکستانی عظیم سفیر ہیں، سمندرپار پاکستانیوں نے سال 24۔25 میں ساڑھے 38 ارب ڈالر ملک بھجوائے۔وزیراعظم نے ٹیرف کے معاملے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کا مناسب تعین ہوگا، پاک امریکا تجارتی معاہدے باہمی مفادات کے تحت ہوں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ 6 تا 10 مئی چار روز میں پاکستانی افواج نے بہادری سے ہندوستان کو جنگ میں شکست دی، اللہ نے افواج پاکستان کو جو نصرت عطا فرمائی اس کا جتنا شکریہ اداکریں وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی حالات چند سال پہلے مشکلات کا شکار تھے، جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت بھی معاشی چیلنجز تھے، مہنگائی 32 فیصد تھی لیکن اب مہنگائی ڈیڑھ سال میں کم ہوکرسنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے، جب اقتدار سنبھالا تو پالیسی ریٹ ساڑھے 22 فیصد تھا، آج 11فیصد پر ہے۔وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو عظیم پاکستانی سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے سال 24۔25 میں ساڑھے 38 ارب ڈالر ملک بھجوائے، ملک کی اس وقت معاشی صورتحال مائیکرو لیول پر مستحکم ہوچکی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: شہباز شریف امریکی صدر نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔

منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔

سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان