نیوجرسی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 ستمبر2025ء)وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات بہت ہی حوصلہ افزا تھی، تجارت، آئی ٹی و دیگر شعبوں میں امریکا سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے۔نیو جرسی میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ امریکی صدر سے ملاقات میں معیشت، انسداد دہشت گردی، معدنیات، اے آئی، آئی ٹی، کرپٹو پر بات ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیرف کے معاملے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا، پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کا مناسب تعین ہوگا، پاک امریکا تجارتی معاہدے باہمی مفادات کے تحت ہوں گے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب گیا چالیس سال میں اس طرح کا استقبال میں نے نہیں دیکھا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ میں لیڈ کیا، انھوں نے دانشمندی سے افواج پاکستان کو لیڈ کیا، میں نے کہا ہم نے جنگ جیت لی، انکے 7 طیارے گرا دیئے، ہرجگہ حملے کیے، ان کا دماغ چکرا گیا، اب ہم نے اس سے آگے نہیں جانا اور جنگ بندی قبول کرلی۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معاشی صورتحال مائیکرو لیول پر مستحکم ہوچکی ہے، سمندرپار پاکستانی عظیم سفیر ہیں، سمندرپار پاکستانیوں نے سال 24۔25 میں ساڑھے 38 ارب ڈالر ملک بھجوائے۔وزیراعظم نے ٹیرف کے معاملے پر امریکی صدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان معدنیات کی قیمت کا مناسب تعین ہوگا، پاک امریکا تجارتی معاہدے باہمی مفادات کے تحت ہوں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ 6 تا 10 مئی چار روز میں پاکستانی افواج نے بہادری سے ہندوستان کو جنگ میں شکست دی، اللہ نے افواج پاکستان کو جو نصرت عطا فرمائی اس کا جتنا شکریہ اداکریں وہ کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکی حالات چند سال پہلے مشکلات کا شکار تھے، جب اقتدار سنبھالا تو اس وقت بھی معاشی چیلنجز تھے، مہنگائی 32 فیصد تھی لیکن اب مہنگائی ڈیڑھ سال میں کم ہوکرسنگل ڈیجٹ میں آگئی ہے، جب اقتدار سنبھالا تو پالیسی ریٹ ساڑھے 22 فیصد تھا، آج 11فیصد پر ہے۔وزیراعظم نے سمندر پار پاکستانیوں کو عظیم پاکستانی سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں نے سال 24۔25 میں ساڑھے 38 ارب ڈالر ملک بھجوائے، ملک کی اس وقت معاشی صورتحال مائیکرو لیول پر مستحکم ہوچکی ہے۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی صدر شہباز شریف نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ