Express News:
2026-06-03@02:45:51 GMT

خوف

اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT

افغانستان سے ملحق حساس اور عشروں سے دہشت گردی کا شکار صوبہ خیبرپختونخوا میں 12 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے جس کے بانی کو طالبان کا حامی ہونے کی وجہ سے طالبان خان بھی کہا جاتا ہے جو کے پی میں سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی اب کھل کر مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا بس نہیں چل رہا کہ اپنے وزیر اعلیٰ کے پی کا برائے راست افغان حکمرانوں سے رابطہ کرا سکیں جس کا اظہار وزیر اعلیٰ کے پی خود بھی کر چکے ہیں مگر ملک کے آئین کے مطابق ملک کا کوئی صوبہ ملک کے خارجی اور دفاعی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا اور اس کا مکمل اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، جس کی پالیسیوں کی پی ٹی آئی سخت خلاف ہے اور مجبور ہے مگر پی ٹی آئی واضح کر چکی ہے کہ وہ آپریشن نہیں چاہتی۔

 تجزیہ نگار اور حالات سے واقف کار حلقے یہ بات متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ افغانوں اور بھارتی فوجی افسروں کے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے مستند شواہد موجود ہیں جس پر متعدد بار افغان حکومت کی توجہ دلائی گئی مگر اس نے کچھ کیا ہے اور نہ ہی دہشت گردی میں ملوث پاکستانی طالبان کے خلاف کچھ کر رہا ہے جو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں مسلسل دہشت گردی کر رہے ہیں جب کہ پاکستان40 سالوں سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کرتا آ رہا ہے اور افغان باشندوں کی پاکستان سے ان کی وطن واپسی کی باعزت کوشش کر رہا ہے۔

افغانستان سے ٹی ٹی پی کے پی اور بلوچستان میں مسلسل دہشت گردی کر رہی ہے اور افغان حکومت پاکستان کے بار بار مطالبات کے باوجود ان دہشت گردوں کو روک رہی ہے نہ پاکستان کے حوالے کر رہی ہے جس سے پاکستان کا زبردست جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے اور اپنے ملک میں ان علاقوں میں کارروائی کر رہا ہے جہاں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی میں ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کے ثبوت عالمی سطح پر دیے جا چکے ہیں۔

 ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی کارروائی نئی نہیں بلکہ سالوں سے جاری ہے جس میں ان ملک دشمنوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ اپریل 2022 سے قبل جب ملک میں اور کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو اس وقت کے وزیر اعظم نے ٹی ٹی پی کے ان دہشت گردوں کو افغانستان سے کے پی آنے کی اجازت دی تھی جنھوں نے اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کر لیے تھے جہاں سے وہ مسلسل دہشت گردی کر رہے ہیں اور ان کے خلاف ہی پاکستانی فورسز کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

فاٹا کا علاقہ پہلے وفاق کے کنٹرول میں تھا مگر بعض سیاستدانوں کی شدید مخالفت کے باوجود فاٹا کو کے پی میں ضم کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہاں بھی دہشت گردی بڑھی جسے روکنے میں 12 سال سے قائم پی ٹی آئی حکومت مکمل ناکام اس لیے رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت خود انھیں واپس لائی تھی اور وفاق سے تعاون بھی نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کی کھلم کھلا حمایت اور آپریشن کی مخالفت کی جا رہی ہے اور بانی پی ٹی آئی نے حال ہی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی ہے۔

پی ٹی آئی کی کے پی حکومت خود اس آپریشن کے خلاف ہے جس کی وجہ سے کے پی میں دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وزیر اعلیٰ کے پی اس سلسلے میں متنازعہ بیانات دیتے آ رہے ہیں۔ ملک میں کے پی کی واحد حکومت ہے جو اپنے بانی کی ہدایت پر صوبائی سرکاری وسائل کے ساتھ اسلام آباد پر حملہ آور ہو چکی ہے اور اب اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہری پور میں ایک اور کے پی ہاؤس بنانے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ وہاں سے اسلام آباد پر موثر حملے کیے جا سکیں کیونکہ اب تک وفاق کے موثر اقدامات سے کی پی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کرنے پر مکمل ناکام رہی ہے۔

نیا کے پی ہاؤس پی ٹی آئی کے بانی کی مرضی سے ہی بنایا جائے گا بانی کا بس چلے تو وہ کے پی پر مستقل قبضہ کرلیں تاکہ وہاں ان کا اقتدار پکا ہو جائے اس لیے وہ اے این پی سے بھی آگے جانا چاہتے ہیں اور اسی لیے کے پی میں آپریشن کی مخالفت کی جا رہی ہے اور سرکاری رکن اسمبلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمیں ایندھن بنایا جا رہا ہے اور تیراہ میں بم بنانے والی فیکٹری میں دھماکے میں مرنے والے دہشت گردوں اور دیگر کے لیے وزیر اعلیٰ نے ایک ایک کروڑ روپے کی امداد کا فوری اعلان کرنے میں دیر نہیں کی اور پی ٹی آئی نے تیراہ واقع کا ذمے دار دہشت گردوں کو نہیں ٹھہرایا اور کسی سرکاری اعلان کا بھی انتظار نہیں کیا اور امن مارچ کا بھی اعلان کر دیا جو صرف دہشت گردی کی حمایت کے مترادف ہے۔

کے پی کی کسی حکومت نے پونے چار سالہ وفاقی حکومت میں تو کوئی لانگ مارچ نہیں کیا تھا مگر اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد گنڈاپور نے اپنے بانی کے لیے کے پی کے سرکاری وسائل کے ساتھ متعدد بار اسلام آباد پر چڑھائی کی مگر ہر بار ناکام رہے اور سیاسی دشمنی میں وہ ہر حد پار کر چکے ہیں ۔ اگر سندھ ایسا پی ٹی آئی حکومت میں کرتا تو وہاں کب کا گورنر راج لگا دیا جاتا جس کی دھمکی بھی متعدد بار دی گئی تھی۔ گورنر کے پی کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ سیاستدان کے پی حکومت کی برطرفی نہیں چاہتے اور انھیں خوف ہے کہ اس سے پی ٹی آئی کو وفاق جیسا سیاسی فائدہ ہوگا جب کہ وفاق کی برداشت کی پالیسی اور عوام پر مہنگائی مسلسل بڑھانے سے وفاقی حکومت مشکلات کا شکار ہے۔ پنجاب، بلوچستان اور کے پی کی متعدد حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر پی ٹی آئی کی مسلسل ملک دشمنی اور ناقابل برداشت رویے پر نہ جانے کیوں برداشت کا مظاہرہ جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسلام آباد پر افغانستان سے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت ٹی ٹی پی کے کر رہے ہیں آپریشن کی وزیر اعلی کے پی میں نہیں کی کے خلاف چکے ہیں رہی ہے رہا ہے ہے اور

پڑھیں:

صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 

سٹی 42:صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  نے بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش  کی 

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ   نے  بلوچستان میں 17 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ملک دشمن عناصر کو سختی سے کچلا جائے گا۔سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔پوری قوم کو اپنے  جوانوں پر فخر کرتی ہے۔آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے  بلوچستان کے  مختلف اضلاع  میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز پر سکیورٹی فورسز کی ستائش  کی ۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے 17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا ۔ محسن نقوی نے کہا سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائیاں کرکے بلوچستان میں بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا۔  17 بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کو عبرتناک انجام تک پہنچانے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ پوری قوم کو سکیورٹی فورسز کے بہادر سپوتوں پر مان ہے ۔ دہشتگردی کے خلاف قوم سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

وزیراعظم محمد شہباز شریف  نے بلوچستان میں کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے  بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز پر سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور بہادری کو سراہا۔ وزیراعظم نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم 17  فتنتہ الھندوستان کے دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا  قوم اپنی بہادر افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کی کامیابیاں پوری قوم کے عزم اور اتحاد کی عکاس ہیں، بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گرد عناصر کے ناپاک عزائم کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا۔پاکستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کے امن، استحکام اور ترقی کے خلاف ہر سازش کو ناکام بنایا جائے گا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے  بلوچستان میں فتنۂ الہندوستان کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ۔ صدرِ مملکت نے مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں میں 17 دہشت گردوں کی ہلاکت کو سراہا ۔ صدر مملکت نے کہا ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کے ناسور کا جڑ سے خاتمہ کیا جانا اولین ترجیح ہے۔فتنۂ ہندوستان اور اس کے سہولت کاروں کے مذموم عزائم کبھی کامیاب نہیں ہوں گے

 نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان