افغانستان سے ملحق حساس اور عشروں سے دہشت گردی کا شکار صوبہ خیبرپختونخوا میں 12 سال سے پی ٹی آئی کی حکومت ہے جس کے بانی کو طالبان کا حامی ہونے کی وجہ سے طالبان خان بھی کہا جاتا ہے جو کے پی میں سالوں سے جاری دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی اب کھل کر مخالفت کر رہے ہیں اور ان کا بس نہیں چل رہا کہ اپنے وزیر اعلیٰ کے پی کا برائے راست افغان حکمرانوں سے رابطہ کرا سکیں جس کا اظہار وزیر اعلیٰ کے پی خود بھی کر چکے ہیں مگر ملک کے آئین کے مطابق ملک کا کوئی صوبہ ملک کے خارجی اور دفاعی معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتا اور اس کا مکمل اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، جس کی پالیسیوں کی پی ٹی آئی سخت خلاف ہے اور مجبور ہے مگر پی ٹی آئی واضح کر چکی ہے کہ وہ آپریشن نہیں چاہتی۔
تجزیہ نگار اور حالات سے واقف کار حلقے یہ بات متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ افغانوں اور بھارتی فوجی افسروں کے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے مستند شواہد موجود ہیں جس پر متعدد بار افغان حکومت کی توجہ دلائی گئی مگر اس نے کچھ کیا ہے اور نہ ہی دہشت گردی میں ملوث پاکستانی طالبان کے خلاف کچھ کر رہا ہے جو افغانستان سے پاکستانی علاقوں میں مسلسل دہشت گردی کر رہے ہیں جب کہ پاکستان40 سالوں سے لاکھوں افغانوں کی میزبانی کرتا آ رہا ہے اور افغان باشندوں کی پاکستان سے ان کی وطن واپسی کی باعزت کوشش کر رہا ہے۔
افغانستان سے ٹی ٹی پی کے پی اور بلوچستان میں مسلسل دہشت گردی کر رہی ہے اور افغان حکومت پاکستان کے بار بار مطالبات کے باوجود ان دہشت گردوں کو روک رہی ہے نہ پاکستان کے حوالے کر رہی ہے جس سے پاکستان کا زبردست جانی و مالی نقصان ہو چکا ہے اور اپنے ملک میں ان علاقوں میں کارروائی کر رہا ہے جہاں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی میں ٹی ٹی پی کے ملوث ہونے کے ثبوت عالمی سطح پر دیے جا چکے ہیں۔
ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کے خلاف پاکستانی کارروائی نئی نہیں بلکہ سالوں سے جاری ہے جس میں ان ملک دشمنوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ اپریل 2022 سے قبل جب ملک میں اور کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی تو اس وقت کے وزیر اعظم نے ٹی ٹی پی کے ان دہشت گردوں کو افغانستان سے کے پی آنے کی اجازت دی تھی جنھوں نے اپنے محفوظ ٹھکانے قائم کر لیے تھے جہاں سے وہ مسلسل دہشت گردی کر رہے ہیں اور ان کے خلاف ہی پاکستانی فورسز کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
فاٹا کا علاقہ پہلے وفاق کے کنٹرول میں تھا مگر بعض سیاستدانوں کی شدید مخالفت کے باوجود فاٹا کو کے پی میں ضم کر دیا گیا تھا جس کے بعد وہاں بھی دہشت گردی بڑھی جسے روکنے میں 12 سال سے قائم پی ٹی آئی حکومت مکمل ناکام اس لیے رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت خود انھیں واپس لائی تھی اور وفاق سے تعاون بھی نہیں کیا جا رہا بلکہ ان کی کھلم کھلا حمایت اور آپریشن کی مخالفت کی جا رہی ہے اور بانی پی ٹی آئی نے حال ہی میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن کی مخالفت کی ہے۔
پی ٹی آئی کی کے پی حکومت خود اس آپریشن کے خلاف ہے جس کی وجہ سے کے پی میں دہشت گردی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور وزیر اعلیٰ کے پی اس سلسلے میں متنازعہ بیانات دیتے آ رہے ہیں۔ ملک میں کے پی کی واحد حکومت ہے جو اپنے بانی کی ہدایت پر صوبائی سرکاری وسائل کے ساتھ اسلام آباد پر حملہ آور ہو چکی ہے اور اب اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہری پور میں ایک اور کے پی ہاؤس بنانے کی کوشش ہو رہی ہے تاکہ وہاں سے اسلام آباد پر موثر حملے کیے جا سکیں کیونکہ اب تک وفاق کے موثر اقدامات سے کی پی حکومت اسلام آباد پر چڑھائی کرنے پر مکمل ناکام رہی ہے۔
نیا کے پی ہاؤس پی ٹی آئی کے بانی کی مرضی سے ہی بنایا جائے گا بانی کا بس چلے تو وہ کے پی پر مستقل قبضہ کرلیں تاکہ وہاں ان کا اقتدار پکا ہو جائے اس لیے وہ اے این پی سے بھی آگے جانا چاہتے ہیں اور اسی لیے کے پی میں آپریشن کی مخالفت کی جا رہی ہے اور سرکاری رکن اسمبلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمیں ایندھن بنایا جا رہا ہے اور تیراہ میں بم بنانے والی فیکٹری میں دھماکے میں مرنے والے دہشت گردوں اور دیگر کے لیے وزیر اعلیٰ نے ایک ایک کروڑ روپے کی امداد کا فوری اعلان کرنے میں دیر نہیں کی اور پی ٹی آئی نے تیراہ واقع کا ذمے دار دہشت گردوں کو نہیں ٹھہرایا اور کسی سرکاری اعلان کا بھی انتظار نہیں کیا اور امن مارچ کا بھی اعلان کر دیا جو صرف دہشت گردی کی حمایت کے مترادف ہے۔
کے پی کی کسی حکومت نے پونے چار سالہ وفاقی حکومت میں تو کوئی لانگ مارچ نہیں کیا تھا مگر اپنی حکومت کی برطرفی کے بعد گنڈاپور نے اپنے بانی کے لیے کے پی کے سرکاری وسائل کے ساتھ متعدد بار اسلام آباد پر چڑھائی کی مگر ہر بار ناکام رہے اور سیاسی دشمنی میں وہ ہر حد پار کر چکے ہیں ۔ اگر سندھ ایسا پی ٹی آئی حکومت میں کرتا تو وہاں کب کا گورنر راج لگا دیا جاتا جس کی دھمکی بھی متعدد بار دی گئی تھی۔ گورنر کے پی کوشش کر رہے ہیں مگر کچھ سیاستدان کے پی حکومت کی برطرفی نہیں چاہتے اور انھیں خوف ہے کہ اس سے پی ٹی آئی کو وفاق جیسا سیاسی فائدہ ہوگا جب کہ وفاق کی برداشت کی پالیسی اور عوام پر مہنگائی مسلسل بڑھانے سے وفاقی حکومت مشکلات کا شکار ہے۔ پنجاب، بلوچستان اور کے پی کی متعدد حکومتیں تبدیل ہوئیں مگر پی ٹی آئی کی مسلسل ملک دشمنی اور ناقابل برداشت رویے پر نہ جانے کیوں برداشت کا مظاہرہ جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد پر افغانستان سے پی ٹی آئی کی وفاقی حکومت ٹی ٹی پی کے کر رہے ہیں آپریشن کی وزیر اعلی کے پی میں نہیں کی کے خلاف چکے ہیں رہی ہے رہا ہے ہے اور
پڑھیں:
قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
ہر سال ستمبر آتے ہی ایک قصہ نئے سرے سے گردش کرنے لگتا ہے۔ اکثر یہ بات کہی جاتی ہے کہ زیارت سے کراچی واپسی پر ان کی ایمبولینس دانستہ خراب کی گئی اور بابائے قوم کو راستے میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا، تاکہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ جائے اور وہ سروائیو نہ کر پائیں۔ کبھی کچھ اور کہا جاتا ہے، کبھی لیاقت علی خان کی زیارت ریزیڈنسی میں قائداعظم سے ملاقات پر منفی تبصرے کیے جاتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر یہ کہانی ہر بار نئے مسالے کے ساتھ لوٹتی ہے، اور ہر بار کچھ لوگ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ ہائے، ہم نے اپنے محسن کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یوں ہر سال ایک نئی سازشی کہانی جنم لیتی ہے، حالانکہ تاریخ کے مستند ریکارڈ میں ایسی کسی منظم سازش کا سراغ نہیں ملتا۔
یہ بھی پڑھیں: دو مہکتے واقعات جنہوں نے بہت کچھ سکھایا
اس بار تو ہم نے ستمبر کا انتظار بھی نہیں کیا، جولائی ہی میں ستمبر لے آئے۔ شاید اس لیے کہ بارشوں نے لاہور کو بھی چند روز کے لیے زیارت کا سا رنگ دے دیا ہے۔ اس بار یہ شگوفہ مخدوم جاوید ہاشمی کے لبوں سے پھوٹا ہے۔ وہ آج کل حکمرانوں سے کچھ برہم اور ناراض ہیں۔ ان کے اندر کا انقلابی اور باغی ہیرو ایک بار پھر جاگ اٹھا ہے۔ اس بار وہ پہلے سے زیادہ پرجوش انداز میں سامنے آیا۔
ہاشمی صاحب نے فرمایا کہ قائداعظم کو سازش کے تحت زیارت بھیجا گیا تھا، حکومتی کاموں سے دور رکھنے کے لیے، ورنہ وہاں کون جاتا ہے علاج کے لیے۔ اس پر فواد چودھری صاحب نے اپنے ٹویٹ کے ذریعے مخدوم صاحب کو جواب دیا۔ کچھ اور لوگ بھی بیچ میں کود پڑے۔ یوں سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث شروع ہوگئی۔
خاکسار کی گزارش بس اتنی ہے کہ ذرا ٹھہر جائیں۔ پہلے ہمارے سادہ سے، معصوم سے سوال کا جواب تو دے دیں کہ آخر یہ سازش کس نے کی؟ وہ کون تھا جو محمد علی جناح کو، اس جیسے مردِ آہن کو، کسی بات پر مجبور کرسکتا تھا؟ قائداعظم گورنر جنرل تھے، ایسے جو کابینہ اجلاس میں تاخیر سے آنے پر وزرا کو سختی سے ڈانٹ سکتے تھے۔
وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت کس میں اتنی جرأت تھی کہ وہ قائد سے اختلاف کرتا یا ان پر جبر کا سوچ بھی سکتا؟ قائداعظم اپنی بیماری میں بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت تھے۔ کسی میں اتنا دم نہیں تھا کہ ان پر رتی برابر دباؤ ڈال سکے، یا ان کے سامنے زبان کھول سکے۔ جو لوگ زیارت جانے کو سازش کہتے ہیں، وہ یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ اس سازش کا مہرہ کون تھا اور دھاگے کس کے ہاتھ میں تھے۔
زیارت کیوں بھیجا گیااصل بات جاننے کے لیے اُس زمانے کی طب کو سمجھنا پڑے گا۔ ٹی بی کے مریض تب ٹھنڈے، بلند علاقوں میں بھیجے جاتے تھے، جہاں صاف، خشک اور ٹھنڈی آب و ہوا مریضوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی تھی۔
شملہ ہو، مری ہو یا زیارت، انہی مقامات پر ایسے مریضوں کے سینیٹوریم بنے تھے۔ زیارت قائد کو خود بھی پسند تھا، اور غالباً ڈاکٹروں کے ذہن میں یہ بھی ہوگا کہ وہاں ملاقاتی کم آئیں گے اور مریض کو آرام کا زیادہ وقت ملے گا۔ اس میں سازش کہاں سے آ گئی؟ ویسے جس کسی کو زیارت گرمیوں میں جانے کا اتفاق ہوا ہو، وہ اعتراف کرے گا کہ ایسی پرسکون، خوبصورت اور خالص ہوا والی جگہ پر مریض کو آنا چاہیے، خاص کر ایسے مریض کو جس کے پھیپھڑے بری طرح متاثر ہوچکے ہوں۔
تھوڑی سی تحقیق کر لیں تو حقائق آشکار ہو جاتے ہیں۔ قائد کو ٹی بی برسوں سے تھی، مگر انہوں نے اسے چھپائے رکھا۔ ان کا اپنا کہنا تھا کہ اگر مخالفین کو خبر ہوگئی تو وہ میری موت کا انتظار کرنے لگیں گے۔ قائد کے آخری دنوں یعنی ستمبر تک یہ مرض اکیلا نہیں رہا تھا، نمونیا اور دیگر پیچیدگیاں بھی ساتھ آ ملیں، شاید پھیپھڑوں کا سرطان بھی۔ قائد کا وزن گھٹ کر صرف 36 کلو رہ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جب اپنا بوجھ اتار پھینکا جائے
36 کلو کا اندازہ لگا لیں، ایک صحت مند 10 سال کے بچے کے برابر وزن۔ ان کے معالج ڈاکٹر الٰہی بخش نے محترمہ فاطمہ جناح کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر معجزہ نہ ہوا تو قائد چند دنوں سے زیادہ نہیں نکال پائیں گے۔ یہ باتیں کسی سازشی بلاگ میں نہیں، ان کے اپنے ڈاکٹروں کی کتابوں اور انٹرویوز میں درج ہیں، خصوصاً ڈاکٹر الٰہی بخش کی یادداشتوں میں۔
کراچی، وہ بھی ستمبر میںاب ایک نکتہ ایسا ہے جس پر شاید ہی کبھی غور کیا گیا ہو۔ قائداعظم ستمبر کے مہینے میں کراچی کیوں آئے؟ ہم لاہور والے جانتے ہیں کہ ستمبر آتے ہی پنجاب کا موسم خوشگوار ہونے لگتا ہے، مگر کراچی میں یہی مہینے نسبتاً زیادہ گرم ہوتے ہیں۔ ایک بیمار آدمی، جس کے پھیپھڑے جواب دے چکے ہوں، اسے بھلا اِس گرمی میں کراچی آنے کی کیا جلدی تھی؟ وہ اکتوبر، نومبر میں بھی آسکتے تھے، جب کراچی کا موسم سنبھل جاتا۔
اس کا جواب تلخ ہے، اور ہم احتراماً اسے زبان پر نہیں لاتے۔ حالات سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ قائد اپنی زندگی کے آخری ایام کراچی اپنے گھر میں گزارنے آرہے تھے۔ ریکارڈ میں کراچی منتقلی کی وجہ یہ درج ہے کہ وہاں بہتر طبی سہولتیں دستیاب تھیں، مگر اندر خانے سب جانتے تھے کہ اب گنتی کے دن رہ گئے ہیں۔ پھر یہ بھی ثابت شدہ حقیقت ہے کہ محترمہ فاطمہ جناح نے سختی سے ہدایت کی تھی کہ واپسی کو نجی دورہ رکھا جائے، اسی لیے ائیرپورٹ پر انہیں لینے سرکاری افسران یا وزرا وغیرہ نہیں پہنچے۔ بہت سوں کو تو شاید قائد کی واپسی کا علم ہی نہیں ہوگا۔
ایمبولینس کا قصہاب آتے ہیں اُس ایمبولینس کی طرف جس پر سب سے زیادہ شور مچتا ہے۔ ہاں، وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی تھی، انجن نے ساتھ چھوڑ دیا۔ یہ ایک افسوسناک منظر تھا، اس سے انکار کوئی نہیں کرتا۔ مگر بندہ خدا، ذرا اُس وقت کے پاکستان کی حالت بھی تو دیکھیں۔ ملک بنے ابھی ایک برس ہوا تھا، خزانہ خالی، لاکھوں مہاجر کھلے آسمان تلے پڑے۔ تب کتنی گاڑیاں ہوا کرتی تھیں اور ایمبولینسوں کا کیا حال تھا؟
اس بات پر بھی غور کیجیے کہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان قائد کی علالت کے دنوں میں زیارت گئے اور ان سے ملاقات کی۔ یہ کوئی رسمی دورہ نہ تھا، کچھ دیر تنہائی میں بھی بات ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ واپسی پر انہوں نے کراچی پیغام بھجوایا کہ حالات کیا ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جناب علامہ شبیر احمد عثمانی کو خاموشی سے پیغام دیا گیا کہ آپ اگلے کچھ دن کراچی ہی میں رہیں، کسی علمی، تبلیغی دورے وغیرہ پر شہر سے باہر نہ جائیں کہ نمازِ جنازہ کے لیے ان کا نام سوچ لیا گیا تھا، شاید قائد کی ہدایت کے مطابق۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ صحیفہ جبار کو معافی مانگنی چاہیے
مطلب صاف ہے۔ ٹاپ پر موجود سب جانتے تھے کہ اب دن گنتی کے رہ گئے ہیں۔ جہاں پوری قیادت کو معلوم ہو کہ اختتام قریب ہے، وہاں ایک ایمبولینس کے چلنے یا رکنے سے کیا فرق پڑنا تھا؟
میرا دکھ مگر یہ نہیں کہ ایمبولینس خراب ہوئی۔ میرا دکھ یہ ہے کہ ہم نے اس خرابی کو ایک سازش بنا ڈالا۔ سچ تو یہ ہے کہ ایمبولینس چلتی یا رکتی، قائد کے پاس وقت بہت کم بچا تھا۔ جس آدمی کو ڈاکٹر 2، 4 دن کی مہلت دے چکے ہوں، اسے وقت پر گھر پہنچا کر بھی آپ چند لمحے ہی جوڑ سکتے تھے، زندگی نہیں لوٹا سکتے تھے۔
کٹا پھٹا پاکستان اور ایک بیمار قائدہمارے ہاں یہ تاثر بہت مستحکم ہے کہ قائد نے کٹا پھٹا پاکستان اسی لیے قبول کر لیا کہ انہیں اپنی بیماری کا، اپنے کم بچے وقت کا اندازہ ہو چکا تھا۔ یہ تاثر تاریخ کے بعض حلقوں میں بھی پایا جاتا ہے اور خاکسار کو بھی یہی قرینِ قیاس محسوس ہوتا ہے۔ ایک ایسا آدمی جو جانتا ہو کہ اگر پاکستان سنتالیس کے بجائے اڑتالیس تک لٹک گیا تو شاید وہ اسے بنتا نہ دیکھ سکے، وہ ادھورا پاکستان لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے، اس امید پر کہ اپنے ہاتھوں سے اپنا خواب پورا ہوتے دیکھ لے۔ کوئی اسے کمزوری کہے تو کہتا رہے۔ جس آدمی کا جسم جواب دے چکا ہو مگر ارادہ سلامت ہو، وہ ایسے ہی کڑے سودے کیا کرتا ہے۔
سو یہ سب کہانیاں کہ فلاں چیز سے قائد کی زندگی گھٹی، بے بنیاد ہیں۔ وہ تو پہلے ہی اپنی فولادی قوتِ ارادی کے بل پر ہی زندہ تھے۔ جسمانی سکت ختم ہو چکی تھی۔ حکومتی کام کاج اب وہ نہیں کر سکتے تھے۔
حرفِ آخرصاحبو! بات اتنی سی ہے، قائداعظم نے ایک بھرپور، شاندار زندگی گزاری، اپنا خواب پورا کیا، پاکستان بنایا، اور پھر اپنے آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ اس میں کوئی سازش نہیں تھی۔ چھپا ہاتھ ڈھونڈنے والے بس ڈھونڈتے ہی رہ جائیں گے۔
مسئلہ بس یہی ہے کہ اگر کوئی بات سیدھے سادے طریقے سے ختم ہو جائے تو ہم میں سے بہت سوں کی مریضانہ ذہنیت کو سکون اور مزا نہیں آتا۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تاریخ کو سمجھنے سے زیادہ، اسے سنسنی خیز بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ شاید اسی لیے ہمارے ہاں افسانے زیادہ مقبول ہوتے ہیں اور حقائق کم۔
ہمیں لطف سازشی تھیوری گھڑنے میں آتا ہے، بطور پاکستانی اپنے آپ کو لعن طعن کرنے، اپنے سر میں خاک ڈالنے، اور پھر آنسو بہانے میں۔ گویا اس کے بغیر ہم اچھے اور سچے پاکستانی کہلا ہی نہیں سکتے۔
میری دعا بس اتنی ہے کہ اللہ ہمیں اپنے محسنوں کو عزت سے یاد کرنے کی توفیق دے۔ اور یہ جو ہماری پرانی عادت ہے، ہر اچھی چیز میں کیڑے نکالنے اور ہر سانحے میں سازش ڈھونڈنے کی، اللہ ہمیں اس سے بچائے۔ آمین۔ باقی کہانیاں ہیں بابا، اور کہانیوں کا کیا، وہ تو بنتی رہیں گی۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔
we news زیارت سازشی تھیوری قائداعظم کراچی