برطانیہ میں گلیسٹنبری کنسرٹ کے دوران مشہور زمانہ فنکار بوبی ویلان نے ہزاروں کے مجمع کے سامنے ‘اسرائیلی فوج مردہ باد’ اور ‘فلسطین کو آزاد کرو’ کے نعرے لگائے جس پر بحث چھڑگئی ہے۔

ان نعروں کو بی بی سی کی طرف سے براہ راست نشر بھی کیا گیا جس پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بھی تنقید کا سامنا ہے۔

برطانوی فنکار نے اسٹیج پر آکر پرفارمنس کے دوران نہ صرف یہ نعرے خود لگائے بلکہ مجمع کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا جس نے غزہ میں جارحیت پر اسرائیلی فوج کے خلاف نعرے لگائے۔

انہوں نے امریکی اور برطانوی حکومت پر فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا۔

یہ بھی پڑھیے: لندن: بگ بین ٹاور پر چڑھنے والا فلسطین کا حامی شخص 16 گھنٹے بعد گرفتار

گلیسٹنبری کنسرٹ کی انتظامیہ نے اپنے آپ کو ان نعروں سے لاتعلق کرکے ان کی مذمت کی ہے۔ جبکہ برطانوی حکومت اور لندن میں قائم اسرائیلی سفارتخانے نے بھی بوبی ویلان کے ان نعروں اور بی بی سی کی طرف سے انہیں براہ راست نشر کرنے پر تنقید کی ہے۔

Here’s @BobbyVylan earlier today at Glastonbury, taking a moment to speak truth on Palestine.

You know the kind of footage the BBC will probably pretend never happened. pic.twitter.com/B4So9QFlYO

— Save Our Citizenships ???? (@LetsStopC9) June 28, 2025

اس واقعے کے بعد مقامی پولیس نے کہا ہے کہ وہ بوبی ویلان کی طرف سے ان نعروں کی تحقیقات کررہی ہے جنہیں بہت سارے لوگوں کی طرف سے منافرت آمیز رویے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کی طرف سے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق