دھاندلی زدہ سابق حکومت چلنے دی نہ اس حکومت کو چلنے دیں گے، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
بٹگرام (ڈیلی پاکستان آن لائن) سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ دھاندلی زدہ سابق حکومت چلنے دی نہ اس حکومت کو چلنے دیں گے۔
خیبر پختونخوا کے علاقے بٹگرام میں مولانا فضل الرحمان کا شعائر اسلام کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام کا فیصلہ غلط اور یکطرفہ ہے، اس فیصلے سے قبائل ناراض ہیں، آ ج آپ پچھتا رہے ہیں کہ فیصلہ غلط ہوا۔انہوں نے کہا کہ 2018 اور 2024 کے الیکشن دھاندلی زدہ ہیں ، انہیں تسلیم نہیں کرتے، دھاندلی کے الیکشن اور دھاندلی کی حکومتوں پر گلہ نہ کیا جائے، جے یو آئی نے نہ اُس حکومت کو چلنے دیا نہ اِس حکومت کو چلنے دیں گے۔
شادی جوا ہے، جلد بازی میں فیصلہ نہیں کرنا چاہتی :مہوش حیات
سربراہ جے یو آئی ف کا کہنا تھا کہ مان لو تمہارے اندر سیاسی بصیرت نہیں ہے ، ملک کو امریکہ کی رضا مندی کے ساتھ چلاتے ہو تو پھر جمہوریت کی بات کیوں کرتے ہوئے۔مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ جے یو آئی (ف) کے کارکن میدان عمل میں ہوں گے، کامیابی مقدر بنے گی، کوئی بھی طاقت عوام اورجےیوآئی کے درمیان فاصلے پیدا نہیں کر سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان حکومت کو چلنے جے یو آئی
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔