انڈسٹری آل گلوبل یونین کے تحت نیشنل یوتھ میٹنگ کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انڈسٹری آل گلوبل یونین کے زیر اہتمام گزشتہ دنوں لاہور کے مقامی ہوٹل میں سیمینار منعقد ہوا۔ انڈسٹری آل گلوبل یونین سے ایفلیٹس فیڈریشن کے یوتھ نمائندوں نے شرکت کی۔ اس میٹنگ کا بنیادی مقصد موسمیاتی تبدیلی (کلائمٹ چینج)، منصفانہ انتقال (جسٹ ٹرانزیشن) اور خودکار مشینوں (آٹومیشن) کے اثرات پر روشنی ڈالنا تھا۔ ٹریننگ میں پاکستان فیڈریشن آف کیمیکل انرجی مائنز اینڈ جنرل ورکر یونین فیڈریشن کے 2نمائندوں انفارمیشن سیکرٹری رحیم خان آفریدی اور نبیل نے شرکت کی۔
موسمیاتی تبدیلی: ایک عالمی چیلنج
موسمیاتی تبدیلی آج دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، جس کے اثرات صرف ماحول تک محدود نہیں بلکہ معیشت، روزگار اور سماجی انصاف پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ صنعتی ترقی اور کاربن کے اخراج سے نہ صرف زمین کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، بلکہ لاکھوں مزدوروں کے روزگار بھی خطرے میں ہیں۔ خاص طور پر پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں زراعت اور روایتی صنعتیں آبادی کا بڑا حصہ روزی روٹی فراہم کرتی ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں۔
منصفانہ انتقال: ایک حل
’’جسٹ ٹرانزیشن‘‘ کا تصور یہ ہے کہ روایتی صنعتوں سے صاف اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی کے دوران مزدوروں کے حقوق اور روزگار کو تحفظ دیا جائے۔ میٹنگ میں زور دیا گیا کہ حکومتوں اور صنعتکاروں کو چاہیے کہ وہ مزدوروں کو نئی مہارتیں سکھائیں، تاکہ وہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی اپنا کردار ادا کر سکیں۔
خودکار مشینیں: روزگار کا نیا بحران
آٹومیشن یا خودکار مشینوں کے پھیلاؤ سے بے شمار روایتی ملازمتیں ختم ہو رہی ہیں۔ نوجوان نمائندوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی، تو بیروزگاری میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کو انسانی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے، نہ کہ اس کے خلاف۔
نوجوانوں کا کردار
اس میٹنگ میں نوجوانوں نے یہ عہد کیا کہ وہ اپنی یونینز اور کمیونٹیز میں ماحولیاتی تحفظ، صاف توانائی، اور منصفانہ معاشی پالیسیوں کی وکالت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم آج اقدامات نہیں کریں گے، تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی۔
آخری بات
موسمیاتی تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششیں ضروری ہیں۔ نوجوان، جو کسی بھی معاشرے کا سب سے متحرک طبقہ ہوتے ہیں، اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم صرف بات کرنے کے بجائے عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ آنے والا کل محفوظ اور انصاف پر مبنی ہو۔ جس سے پاکستان میں نوجوان مزدوروں کے لیے بہترین انداز میں کام کیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی
پڑھیں:
محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
(اویس کیانی)نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد، جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ کیا۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت اپ گریڈیشن پراجیکٹ سے متعلق جائزہ اجلاس ہوا، جس میں نیشنل پولیس اکیڈمی کی اپ گریڈیشن کے سلسلے میں جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
نیشنل پولیس اکیڈمی کے اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر کام تیز
ایلیٹ ٹریننگ سکول میں ریپلنگ ٹاور پر 80 فیصد،جاگنگ ٹریک اور آبسٹیکلز پر 70 فیصد کام مکمل
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا نیشنل پولیس اکیڈمی کا دورہ، اپ گریڈیشن پراجیکٹ پر پیش رفت کا جائزہ لیا pic.twitter.com/PSzCboerya
اجلاس میں ایلیٹ سکول کی فائرنگ رینج اور باونڈری وال کو 2 ماہ میں مکمل کرنے کا ٹاسک دیا گیا۔
دوران اجلاس نیشنل پولیس اکیڈمی کو مرحلہ وار سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری دی گئی، تمام کلاس رومز کو جدید آئی ٹی سہولیات سے لیس کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین سی ڈی اے، آئی جی اسلام آباد پولیس، ڈپٹی کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس موقع پر موجود تھے۔