مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ سوات سانحہ ایک انتہائی المناک اور افسوسناک واقعہ ہے، تاہم یہ ایک قدرتی آفت تھی جس پر حکومت کی پوری کوشش رہی کہ زیادہ سے زیادہ انسانی جانیں بچائی جائیں، سانحے کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر سیف نے کہا کہ سوات واقعہ افسوسناک قدرتی آفت تھی، ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی گئی، پنجاب سے آئے ہوئے سیاح ضد میں آ کر خطرناک جگہوں پر گئے، جہاں پانی کا بہاؤ اور موسم غیر معمولی طور پر خراب تھا، عوام کو چاہیے کہ وہ ایسی جگہوں پر جانے سے گریز کریں جہاں خطرہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ سوات: حکومت نے ڈپٹی کمشنر کو معطل کردیا، دریا کنارے تجارتی سرگرمیاں بند

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ واقعہ سے قبل حکومت نے شہریوں کو سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا تھا اور اسی دن 80 افراد کو بچایا بھی گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات میں جائے سانحہ پر ریسکیو ٹیموں کے تاخیر سے پہنچنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ دیگر مقامات پر آپریشن میں مصروف تھیں، اگر ائیر ایمبولینس استعمال کی جاتی تو بڑے حادثے کا خدشہ تھا، کیونکہ ایسی ایمبولینسیں مخصوص آلات سے لیس نہیں ہوتیں اور خراب موسم میں پرواز ممکن نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ ائیر ایمبولینس مریضوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے ہوتی ہے، سیلاب میں استعمال خطرناک ہو سکتا ہے، غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جن کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے وہ عدالتی حکمِ امتناع (سٹے آرڈر) لے لیتے ہیں۔

بیرسٹر سیف کے مطابق سوات سانحے کے ذمے دار افسران کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے اور مزید ذمہ داران کو سزائیں دی جائیں گی، سیکرٹری خود وزراء کے ہمراہ موقع پر گئے اور حالات کا جائزہ لیا جس کے بعد ذمہ داران کو سزائیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بیرسٹر سیف کا مریم نواز کو علی امین گنڈاپور کی نقل کرنے کا مشورہ

بیرسٹر سیف نے کہا کہ سوات واقعہ پر وزیراعلیٰ سے استعفیٰ مانگنے والوں کو چاہیے کہ سندھ میں تھرپارکر میں غذائی قلت سے مرنے والوں پر بلاول بھٹو سے بھی استعفیٰ مانگیں، مری میں سیاحوں کی اموات پر کسی نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے استعفیٰ نہیں مانگا، یہاں صرف پوائنٹ اسکورنگ ہورہی ہے۔

انہوں نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گورنر کے پاس کوئی اختیار نہیں، ان کی تنقید کی کوئی اہمیت نہیں،انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ

اسی طرح مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پنجاب میں اپنی حکومت کے شعبہ صحت پر توجہ دینی چاہیے، جہاں لوگ مرتے دکھائی نہیں دیتے، پاکستان میں آئین و قانون وہاں سے ہارا جہاں سے انصاف کی امید ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں جن کی وجہ سے 26ویں آئینی ترمیم منظور ہوئی، آج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد صوبائی اسمبلی کے اجلاس کا فیصلہ کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ان حالات میں عمران خان شہباز شریف کے ساتھ بیٹھیں گے؟ سنیے بیرسٹر سیف کا جواب

بیرسٹر سیف نے کہا کہ اقلیتی برادری کے طلبا و طالبات کو وظائف دیے گئے ہیں تاکہ انہیں تعلیم میں مساوی مواقع فراہم کیے جاسکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news بلاول بھٹو بیرسٹر سیف خیبرپختونخوا سانحہ سوات علی امین گنڈاپور قدرتی آفت مریم نواز مشیر اطلاعات وزیراعلٰی پنجاب.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلاول بھٹو بیرسٹر سیف خیبرپختونخوا سانحہ سوات علی امین گنڈاپور قدرتی ا فت مریم نواز مشیر اطلاعات کے خلاف کارروائی کی بیرسٹر سیف نے کہا مریم نواز نے کہا کہ انہوں نے کہ سوات

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سوات اور گردونواح میں زلزلے کے شدید جھٹکے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • سوات: گھر کی چھت اور ہوٹل کا کمرہ گرنے سے بچیوں سمیت 3 افراد جاں بحق
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا