سہواگ کا آؤٹ سے بچنے کیلئے 2 امپائرز کو رشوت دینے کا اعتراف، امپائرز کون تھے؟
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کے سابق کرکٹر وریندر سہواگ نے ایک انٹرویو کے دوران امپائرز کو اپنے حق میں فیصلے دلوانے کے لیے رشوت دینے کا انکشاف کیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سہواگ نے بتایا کہ انہوں نے جن دو امپائرز کو رشوت دی تھی، وہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں رہے۔
انہوں نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک میچ کے دوران وہ اور سچن ٹنڈولکر ایک ہی کمپنی کے پیڈ استعمال کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر جنوبی افریقی امپائر روڈی کوٹزن، جو اب انتقال کر چکے ہیں، نے ان سے ان پیڈز کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ وہ انہیں اپنے بیٹے کے لیے خریدنا چاہتے ہیں۔ سہواگ کے بقول، انہوں نے یہ موقع امپائر کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا۔
وریندر سہواگ کے مطابق ’ میچ کے بعد میں نے امپائر کو اپنے پیڈز دے دیے جس پر امپائر نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ میں آپ سے یہ پیڈز کیسے لے لوں؟ میں نے انہی بتایا کہ یہ آپ کے بیٹے کے لیے تحفہ ہے، جواباً انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں اس کے بدلے آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں تو میں نے ان سے کہا کہ بس مجھے ایک بار آؤٹ نہ دینا۔
سہواگ کے مطابق اس واقعے کے بعد امپائر نے مجھے 2 یا 3 بار آؤٹ نہیں دیا۔
سابق بھارتی کرکٹر نے بتایا کہ ’ ایک دوسرے امپائر ڈیوڈ شیفرڈ تھے، بھارت میں امپائرنگ کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو ہماری مہمان نوازی کیسے لگی؟ جس پر انہوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے آئس کریم نہیں ملی، کیٹررز مجھے منع کر رہے ہیں اس کے بعد کھیل کے دوران میں نے وقفہ لیا اور کیٹرر سے کہا کہ اگر امپائر کو بریک کے دوران ونیلا، چاکلیٹ اور اسٹرابیری آئس کریم نہیں ملی تو آپ کی ملازمت چلی جائےگی۔
وریندر سہواگ نے مزید بتایا کہ’ اس کے بعد میں نے امپائر سے پوچھا کہ انہیں آئس کریم کیسی لگی؟ جس پر امپائر نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ مجھے آئس کریم مل گئی، میں نے انہیں بتایا کہ میں نے انتظامات کر لیے تھے۔
سابق کرکٹر کے مطابق اس امپائر نے بھی مجھ سے یہی سوال کیا کہ میں آپ کیلئے کیا کرسکتا ہوں ، تب بھی میں نے ان سے یہی کہا کہ مجھے ایک بار آؤٹ نہ دینا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: امپائرز کو امپائر نے انہوں نے بتایا کہ کے مطابق کے دوران کے لیے کے بعد کہا کہ
پڑھیں:
دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس دوران دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقاتِ کار میں توسیع کا بڑا فیصلہ ہو گیا، دن کے طویل دورانیے اور شدید گرمی کے پیشِ نظر اب ملک بھر میں دکانیں، بازار اور شاپنگ مالز رات نو بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔
کمیٹی کے فیصلے کے مطابق ریٹیل کاروبار اور شاپنگ مالز کو رات نو بجے تک جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور کھانے پینے کے مراکز کو رات گیارہ بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہوگی۔ دوسری جانب، شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات پر یہ ریلیف لاگو نہیں ہوگا اور وہ بدستور رات دس بجے بند کر دیئے جائیں گے۔ اجلاس میں واضح کیا گیا کہ فارمیسیز، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات اوقاتِ کار کی اس پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گی۔ اسحاق ڈار کی جانب سے تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے نئی ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے بیلجیئم میں پاکستان کے سفیررحیم حیات قریشی کی اہم ملاقات
مزید :