متعدد یورپی ممالک اس وقت شدید ترین ہیٹ ویو کی زد میں ہیں جس کے باعث صحت کے حوالے سے ہنگامی انتباہ جاری کر دیا گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسپین کا جنوبی علاقہ اس گرمی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں کئی علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

اسپین کے محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ مہینہ ملک کی تاریخ کا سب سے گرم جون ثابت ہو سکتا ہے۔

اسپین کے علاوہ پرتگال، اٹلی اور کروشیا میں بھی شدید گرمی کی وجہ سے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

پرتگال کے علاقے مورا میں درجہ حرارت 47 ڈگری ریکارڈ کیا گیا۔

فرانس، آسٹریا، بیلجیئم، ہنگری، سربیا، بوسنیا، سلووینیا اور سوئٹزرلینڈ میں ایمبر وارننگز نافذ کی گئی ہیں۔

بارسلونا میں ایک خاتون صفائی ملازمہ ہفتے کے روز شدید گرمی میں کام کرنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ مقامی حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اٹلی میں گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر بزرگ شہریوں، کینسر کے مریضوں اور بے گھر افراد میں۔

نیپلز کے اسپتال میں ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے خصوصی طبی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں فوری علاج، ٹھنڈے پانی میں غوطے لگانا شامل ہیں۔

بولونیا شہر میں سات مقامات پر ایئر کنڈیشنڈ پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں اور روم میں 70 سال سے زائد عمر کے افراد کے لیے سوئمنگ پولز تک مفت رسائی دی گئی ہے۔

لزبن (پرتگال) میں فارماسسٹ نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ لوگوں کو دن کے گرم ترین اوقات میں باہر نکلنے سے منع کیا گیا ہے۔

اسی طرح سربیا میں ریکارڈ شدہ تاریخ کا سب سے زیادہ درجہ حرارت نوٹ کیا گیا، جبکہ سلووینیا میں جون کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا۔

شمالی مقدونیہ میں جمعہ کے روز درجہ حرارت 42 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا۔

فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ میں بھی درجہ حرارت بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

لندن میں پیر کو درجہ حرارت 35 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ہے۔

یہ شدید گرمی ایک ہائی پریشر سسٹم کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہے، جو خشک ہوا کو زمین کی طرف دھکیل کر درجہ حرارت کو بڑھا رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کیا گیا

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
  • لاہور میں آج موسم ابرآلود، بارش کا کتنا امکان؟
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ