معروف بینکر جاوید قریشی پاکستان بزنس کونسل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
معروف بینکر جاوید قریشی پاکستان بزنس کونسل کے نئے چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر WhatsAppFacebookTwitter 0 30 June, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان بزنس کونسل کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے معروف بینکر جاوید قریشی کو ادارے کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق معروف بینکر جاوید قریشی 11 جولائی 2025 سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھالیں گے جب کہ سبکدوش ہونے والے سی ای او احسان ملک کو ان کی دہائی پر محیط خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔پاکستان بزنس کونسل نے تجربہ کار بینکر جناب جاوید قریشی کو ادارے کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کر دیا ہے، اس کا باضابطہ اعلان بورڈ آف ڈائریکٹرز کی متفقہ منظوری کے ساتھ کیا گیا۔
جاوید قریشی کو بین الاقوامی بینکاری اور قیادت کا 34 سالہ تجربہ حاصل ہے، جنہوں نے مشرق وسطی، افریقہ، یورپ اور پاکستان میں اعلی عہدوں پر خدمات انجام دیں، وہ ابھرتی ہوئی معیشتوں، پالیسی ایڈووکیسی، اور اسٹیک ہولڈرز سے روابط کے ماہر ہیں۔چیئرپرسن پی بی سی ڈاکٹر زیلف منیر نے سبکدوش ہونے والے سی ای او احسان ملک کی 10 سالہ قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پی بی سی کو ایک موثر اور ترقی پسند کاروباری آواز بنایا۔
انہوں نے جناب قریشی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کا عالمی تجربہ اور پاکستان کے کاروباری منظرنامے کی گہری سمجھ کونسل کو پائیدار ترقی اور مثبت اثرات کے اگلے مرحلے کی جانب موثر طور پر رہنمائی فراہم کرے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنئے دور میں پارٹی کے خود انقلاب کے تقاضوں کو مزید عملی جامہ پہنایا جائے ، چینی صدر جون میں مہنگائی کی شرح 3سے 4فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، وزارت خزانہ مخصوص نشستیں کیس،پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کا 12ججز کے دستخط کیساتھ کورٹ آرڈر جاری کرنیکی استدعا حکومت کا عوام کو ریلیف، بجلی بلوں سے الیکٹریسٹی ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ اسٹیٹ بینک اور اس کے ذیلی ادارہ بینکنگ سروسز کارپوریشن عدالتوں کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کے بجائے توہین عدالت کے مرتکب ہو... صدر آصف زرداری نے آئندہ مالی سال کے فنانس بل کی منظوری دیدی، بجٹ کا اطلاق آج رات 12بجے سے ہو گا سپریم کورٹ نے ویڈیو لنک کی سہولت میں دور دراز علاقوں تک توسیع دیدی
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر معروف بینکر جاوید قریشی پاکستان بزنس کونسل
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔