جماعت اسلامی کا وزیراعظم کو خط، K4 پروجیکٹ کیلئے فوری فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
کراچی:
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے K4 منصوبے کے فنڈز مختص کرنے کیلئے وزیر اعظم شہباز شریف کو خط لکھ دیا۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ وفاق K-4 منصوبے کیلئے 40 ارب روپے فوری مختص کرے، منصوبے کیلئے صرف 3.2 ارب روپے رکھنا زیادتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر کے 3.5 کروڑ عوام کو پانی کی قلت کا سامنا ہے، شہر کو روزانہ 1200 ملین گیلن پانی درکار ہے لین صرف 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جا رہا ہے، وفاقی بجٹ میں کراچی کو جائز حصہ نہیں دیا گیا۔
منعم ظفر خان نے کہا کہ K-4 منصوبہ بند کرنا شہر کے ساتھ زیادتی ہوگی، شہباز شریف نے 2021 میں کراچی کو پیرس بنانے کا وعدہ کیا تھا، اب شہباز شریف کے پاس وعدے نبھانے کا موقع ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہر قائد میں K-3 کے بعد اب تک کوئی بڑا آبی منصوبہ مکمل نہیں ہوا، K-4 منصوبے کا PC-II 2003 میں منظور ہوا تھا، پورے ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کے مسائل کے حل کے لیے ترقیاتی منصوبے دیئے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔