دہشتگردی پوری دنیا کے امن کیلئے خطرہ ہے، ایس جئے شنکر
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسکے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں "دہشت گردی کی انسانی قیمت" کے عنوان سے ایک نمائش کا افتتاح کرتے ہوئے بھارت کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے واضح پیغام دیا کہ دنیا کو اب دہشت گردی کے خلاف متحد ہونا پڑے گا۔ انہوں نے عالمی برادری کو متحد ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو کوئی چھوٹ نہیں ملنی چاہیئے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ دہشت گردوں کو کسی بھی حالت میں چھوٹ نہیں دی جانی چاہیئے، انہیں پراکسی کے طور پر دیکھنا بند کریں اور کسی بھی قسم کی جوہری بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہونا چاہیئے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ پہلگام حملے پر ہندوستان کا ردعمل دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے پیغام کو اجاگر کرتا ہے۔
جے شنکر نے 22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کیا جس میں 26 لوگ بے دردی سے مارے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس گھناؤنے فعل کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس کے ذمہ داروں کا احتساب کیا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ جے شنکر نے کہا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ دہشت گردی، جہاں بھی ہوتی ہے، پوری دنیا کے امن کے لئے خطرہ ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ کسی بھی ملک کی طرف سے اسپانسر کی جانے والی دہشت گردی کو بے نقاب کیا جائے اور اس کے خلاف کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی انسانیت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے، یہ اقوام متحدہ کے تمام اصولوں کے منافی ہے، جس کے لئے انسانی حقوق، قواعد و ضوابط اور قوانین موجود ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ نے کہا کہ انہوں نے کہ دہشت
پڑھیں:
مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔
تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔
اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔
محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔
تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔
تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔