پاکستان میں دہشت گردی بھارتی سرپرستی کا نتیجہ: پراکیسنرکا گٹھ جوڑ پھر بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد (این این آئی) پاکستان میں دہشتگردی کی حالیہ لہر کے پسِ پشت بھارت کی ریاستی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز کا گٹھ جوڑ ایک بار پھر آشکار ہو گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی وزیرستان اور بنوں گیریژن میں سکیورٹی فورسز پر ہونے والے حملے بھارت اور فتنہ الخوارج کی ناپاک ملی بھگت کا نتیجہ ہیں، جس کے شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ پاکستان نے ماضی میں بھی متعدد بار عالمی برادری کے سامنے بھارتی ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد پیش کیے ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کئی بار پریس کانفرنسز کے ذریعے بھارتی دہشتگردی کو بے نقاب کر چکے ہیں۔ 29 اپریل 2025ء کو ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے انکشاف کیا کہ بھارتی فوج کے افسر پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں میں براہ راست ملوث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 25 اپریل کو جہلم کے قریب سکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا، جس کے قبضے سے ایک دیسی ساختہ بم (IED)، ڈرون، متعدد موبائل فونز اور 10 لاکھ روپے نقد برآمد ہوئے۔ بلوچستان میں ہتھیار ڈالنے والے دہشتگردوں کے بیانات سے بھی بھارتی مداخلت کے واضح شواہد سامنے آئے۔ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی دہشتگردانہ سرگرمیوں کی ایک مثال کینیڈا میں مقیم خالصتانی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل ہے، جو بھارت کے جارحانہ ایجنڈے کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے۔ اقوام عالم سے مطالبہ کیا گیا ہے وہ بھارتی پراکسیز، فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کی دہشتگردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سخت نوٹس لیں۔ ان بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کا نہ کوئی مذہب سے تعلق ہے اور نہ ہی انسانیت سے اور پراکسیز کے ذریعے ہونے والی دہشتگردی کے ناقابل تردید شواہد یہ ثابت کرتے ہیں کہ بھارتی جنگجو پالیسیاں خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
فائل فوٹو۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔
مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔