بدین،راہموں برادری کے 4 افراد کے قتل کیخلاف اہم مشاورتی اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بدین (نمائندہ جسارت )گولارچی کے قصبہ کھورواہ میں راہمون برادری کا اہم مشاورت ، پولیس افسران کے خلاف مخالفین کی پشت پناہی کرنے کے الزامات، راہموں برادری کے چار بے گناہ افراد کے قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ ۔تفصیلات کے مطابق راہموں برادری کے قتل ہونے والے چار نوجوانوں کے قتل میں ملوث ملزمان کی پولیس کی جانب سے پشت پناہی کرنے اور کیس کی تفتیش میں رکاوٹیں ڈالنے پر غور فکر اور اجتماعی لائحہ عمل طے کرنے کے لیے ضلع بدین کی تحصیل گولارچی کے قصبہ کھورواہ کے گاؤں ملک اللہ بچایو میں راہمون برادری کی جانب سے ایک اہم اجلاس منعقد کیا گیا جس میں برادری سے تعلق رکھنے والی سیاسی سماجی شخصیات برادری کے معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔اس موقع پر راہموں برادری کے ایک مشترکہ بیانیہ میں کہا گیا کہ 2015ء میں ہماری خریدی گئی زمین پر شرپسند عناصر نے حملہ کیا اور ہمارے 4نوجوانوں کو شہید کیا، مگر ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا، کسی قسم کا انتشار نہیں پھیلایا اور انتظامیہ سے مکمل تعاون کیا۔ اس وقت انتظامیہ نے مکمل انصاف کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد ہم نے قانونی طریقہ اختیار کرتے ہوئے پرامن جدوجہد جاری رکھی۔ تاہم افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انتظامیہ نے انصاف دینے کے بجائے الٹا ہمارے افراد پر جھوٹی ایف آئی آرز درج کیں۔ باوجود اس کے ہم نے قانونی طریقہ اپنایا، عدالتوں سے ضمانتیں حاصل کیں، مگر اب بھی کھورواہ تھانے کے ایس ایچ او محمد خان کلوئی اور گولارچی کے ڈی ایس پی عبدالرحیم خاصخیلی جو اس کیس کے تفتیشی افسر بھی نہیں ہیں، اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے ہمارے عام لوگوں کو مسلسل ہراساں کر رہے ہیں۔ اجلاس میں راہمون قبیلے کے معززین جن میں چیئرمین صالح راہمون، ایڈووکیٹ انور راہمون، سائیں اچار راہمون، مصطفی راہمون، عبدالغنی راہمون، ڈاکٹر عبدالمجید راہمون، چیئرمین خدابخش راہمون، شعیب سندھی، عظیم سندھی، راجا عرس، مدد علی راہمون سمیت دیگر وزیر داخلہ سندھ ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس ایس پی بدین سے پرزور مطالبہ کیا کہ کھورواہ تھانے کے ایس ایچ او محمد خان کلوئی اور ڈی ایس پی گولارچی عبدالرحیم خاصخیلی کو فوری طور پر عہدوں سے ہٹایا جائے۔ ان کی جگہ ایماندار اور غیر جانبدار افسران کو تعینات کیا جائے۔ اس واقعے میں ملوث روپوش ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور راہمون برادری میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کر کے فوری انصاف فراہم کیا جائے۔اس موقع پر راہمون برادری نے خبردار کیا کہ اگر ان کے جائز مطالبات پورے نہ کیے گئے تو وہ احتجاج کا آئینی اور جمہوری حق محفوظ رکھتے ہیں اور حالات جو بھی ہوں گے اس کے ذمہ دار محکمہ پولیس اور ہمارے مخالفین ہوں گے .
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: راہموں برادری کے راہمون برادری
پڑھیں:
خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کیلئے خوف و ہراس پھیل گیا، لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ اسلام ٹائمز۔ پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ علاقے میں کل دیر رات افراتفری مچ گئی، جب کچھ شرپسند عناصر معروف استاد خان سر کے کوچنگ سینٹر میں گھس گئے اور توڑ پھوڑ اور لوگوں کے ساتھ مار پیٹ کی۔ واقعے میں کوچنگ سینٹر میں موجود کئی سامان کو نقصان پہنچا جب کہ وہاں تعینات ایک گارڈ شدید زخمی ہوگیا۔ سر میں چوٹ لگنے کے بعد اسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پٹنہ پولیس حرکت میں آگئی۔ پٹنہ کے ایس ایس پی، کدم کنواں پولس اسٹیشن اور دیگر پولیس افسران کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے اور معاملے کی جانچ شروع کی۔ پولیس کی ٹیمیں رات گئے تک جائے وقوعہ پر موجود رہیں اور عہدیدارون کی جانب سے شواہد اکٹھے کئے گئے۔
واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے والے خان سر نے الزام لگایا کہ حال ہی میں ان کے کوچنگ انسٹی ٹیوٹ سے ہزاروں طلباء کو بہار پولیس بھرتی امتحان میں منتخب کیا گیا تھا، جس نے کچھ کمپٹیشن کرنے والے کوچنگ اداروں کو پریشان کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں، جس کے نتیجے میں حملہ اور توڑ پھوڑ کی گئی۔ خان سر نے کہا کہ یہ لوگ پوچھ رہے ہیں، ہم اتنی کم فیس پر کیوں پڑھا رہے ہیں، ہمیں اتنے اچھے نتائج کیوں مل رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ہزاروں طلباء کے نتائج آتے ہیں تو کچھ سماج دشمن عناصر کو خطرہ محسوس ہوتا ہے۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پٹنہ کے مشلہ پور میں خان سر کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں کچھ دیر کے لئے خوف و ہراس پھیل گیا۔ لوگوں نے پتھراؤ کی بھی اطلاع دی۔ حملے میں ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا ہے جسے علاج کے لئے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے بعد سے علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ جائے وقوعہ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ پٹنہ کے ایس ایس پی کارتکیہ کے شرما نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کچھ طلباء نے کوچنگ سینٹر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ واقعے میں ایک گارڈ زخمی ہوا، اس کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔