امریکی خاتون پاکستانی نوجوان کی دُلہن بننے اپر دیر پہنچ گئی، شادی کی تیاریاں
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
سوشل میڈیا پر اپر دیر کے نوجوان اور ایک امریکی خاتون کے درمیان شروع ہونے والی دوستی محبت میں تبدیل ہوگئی، جس کے بعد 47 سالہ امریکی خاتون راسموسن طویل سفر طے کرکے اپر دیر پہنچ گئیں۔
اپر دیر کے نواحی علاقے صدیقہ بانڈہ عشیرئی درہ، جو دیر شہر سے مشرق کی سمت قریباً 50 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے، سے تعلق رکھنے والے نوجوان ساجد کی سوشل میڈیا پر امریکی خاتون راسموسن سے تین سال قبل دوستی ہوئی تھی، وقت گزرنے کے ساتھ دونوں میں قریبی تعلق قائم ہوا اور یہ دوستی محبت میں بدل گئی۔
ذرائع کے مطابق امریکی خاتون راسموسن گزشتہ روز ساجد سے ملاقات کے لیے دیر بالا پہنچ گئیں، تاہم ان کی آمد کو انتہائی خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ ساجد کے خاندانی ذرائع نے بتایا ہے کہ راسموسن کی آج عشیرئی درہ آمد متوقع ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ دونوں جلد شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔
مقامی لوگوں کے مطابق ساجد زیب، تارپتار بازار میں ایک میڈیکل اسٹور چلاتا ہے اور وہ گزشتہ تین برس سے امریکی خاتون کے ساتھ سوشل میڈیا کے ذریعے رابطے میں ہے۔ ان کے درمیان قریبی تعلق کی خبریں علاقے میں زیرِ بحث رہ چکی ہیں۔
ادھر جبر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس معاملے سے آگاہ ہے اور امریکی خاتون کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ سیکیورٹی کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ امریکی خاتون راسموسن کے پاس پاکستان کا 90 روزہ وزٹ ویزا موجود ہے، تاہم وہ تاحال ساجد کے آبائی گاؤں نہیں پہنچی ہیں اور ان کی نقل و حرکت کو جان بوجھ کر خفیہ رکھا جا رہا ہے۔
خاتون کی آمد اور ممکنہ شادی کے بارے میں علاقے میں چہ مگوئیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں، جب کہ بعض حلقوں میں اس واقعے کو سوشل میڈیا تعلقات کے نئے رجحان کی ایک نمایاں مثال کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ مزید جانیے سیّد زاہد جان کی اس رپورٹ میں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اپر دیر امریکی خاتون آن لائن محبت پولیس دلہن سوشل میڈیا شادی کی تیاریاں وزٹ ویزا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اپر دیر امریکی خاتون ا ن لائن محبت پولیس دلہن سوشل میڈیا شادی کی تیاریاں وزٹ ویزا وی نیوز امریکی خاتون راسموسن سوشل میڈیا اپر دیر
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس