اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔یکم جولائی ۔2025 )پاکستان میں جون 2025 میں سالانہ بنیادوں پرمجموعی مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد رہی، جو مئی 2025 کی 3.5 فیصد سے کم ہے یہ ڈیٹا پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) نے منگل کو جاری کیا ہے ماہانہ بنیاد پر دیکھا جائے تو جون 2025 میں مہنگائی 0.

2 فیصد بڑھ گئی جبکہ پچھلے ماہ یہ 0.2 فیصد کم ہوئی تھی اور جون 2024 میں 0.5 فیصد کا اضافہ ہوا تھا.

مالی سال 2025 کے دوران سی پی آئی مہنگائی کی اوسط 4.49 فیصد رہی جو مالی سال 2024 میں 23.

(جاری ہے)

41 فیصد تھی پاکستان میں مہنگائی ایک اہم اور مسلسل اقتصادی چیلنج رہی ہے، خاص طور پر حالیہ برسوں میں مئی 2023 میں سی پی آئی مہنگائی کی شرح ریکارڈ 38 فیصد تک پہنچ گئی تھی تاہم اس کے بعد یہ کم ہوتی جارہی ہے سی پی آئی کی یہ شرح حکومت کی توقعات کے مطابق ہے وزارت خزانہ نے اپنی ماہانہ اقتصادی رپورٹ میں توقع ظاہر کی تھی کہ جون میں مہنگائی 3 سے 4 فیصد کے درمیان رہے گی.

ماہانہ اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ بیرونی محاذ پر ریمیٹنس اور برآمدات میں اضافے سے مالی سال 2025 کے دوران کرنٹ اکاﺅنٹ سرپلس میں رہے گا پہلے اقتصادی سروے 2024-25 میں کہا گیا تھا کہ مالی سال 2025 کے دوران مہنگائی کی شرح 4.5 سے 5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جو نازک یا جلد خراب ہوجانے والی غذائی اشیاءکی قیمتوں میں نمایاں کمی اور خراب نہ ہونے والی اشیائ کے مناسب ذخائر کی بدولت ممکن ہوگا.

اسی دوران تازہ ترین سی پی آئی اعداد و شمار کئی بروکریج ہاﺅسز کی پیش گوئیوں کے مطابق بھی تھے جے ایس گلوبل نے پاکستان کی مجموعی مہنگائی کی شرح جون میں 3.1 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی تھی جے ایس گلوبل نے کہا ہے کہ مئی 2025 میں 3.5 فیصد سالانہ شرح کے بعد جون 2025 میں سی پی آئی 3.1 فیصد سالانہ متوقع ہے بیس ایفیکٹ کم ہو رہا ہے جو معمول کی قیمتوں کے رجحانات کی طرف اشارہ کرتا ہے.

دوسری طرف انسائٹ سیکیورٹیز نے بھی جون میں مجموعی مہنگائی کی شرح 3.2 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی تھی پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کے مطابق جون 2025 میں شہری علاقوں میں صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 3 فیصد تک کم ہو گئی ہے جو پچھلے ماہ کی 3.5 فیصد اور جون 2024 کی 14.9 فیصد سے کم ہے ماہانہ بنیاد پر یہ جون 2025 میں مستحکم رہی اور 0.1 فیصد رہی، جو پچھلے ماہ کی 0.1 فیصد اور جون 2024 کی 0.6 فیصد کے برابر ہے.

دیہی علاقوں میں جون 2025 میں صارف قیمت اشاریہ کی مہنگائی سالانہ بنیاد پر 3.6 فیصد بڑھ گئی جو پچھلے ماہ کی 3.4 فیصد اور جون 2024 کی 9.3 فیصد سے زیادہ ہے ماہانہ بنیاد پر جون 2025 میں یہ 0.5 فیصد بڑھی، جو پچھلے ماہ 0.5 فیصد کمی اور جون 2024 کی 0.3 فیصد اضافے کے مقابلے میں ہے. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر