مہنگائی کی ستائی مظلوم عوام پر حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا، پیٹرول کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
مہنگائی کی ستائی مظلوم عوام پر حکومت نے پیٹرول بم گرا دیا، قیمتوں میں بڑااضافہ کردیا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن وزارتِ خزانہ نے جاری کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 8 روپے 36 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 258 روپے 43 پیسے سے بڑھ کر 266 روپے 79 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 39 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 262 روپے 59 پیسے سے بڑھ کر 272 روپے 98 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ زرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں میں 2 روپے 50 پیسےکاربن لیوی عائد جبکہ پیٹرول پر لیوی 78روہے 52 پیسے کم کر دی گئی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی74 روپے 51 پیسے مقررکردی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق فوری طور پر ہوگیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پیسے فی لیٹر قیمتوں میں کی قیمت
پڑھیں:
پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔(جاری ہے)
رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔
حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔