ہندوستانی مرکزی میڈیا کی جانب سے دہشتگرد قرار دیے گئے کشمیری استاد قاری محمد اقبال کے خلاف تمام الزامات پونچھ کی عدالت نے مسترد کردیے، اور سچ سامنے آنے پر زی نیوز اور نیوز 18 انڈیا کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کردیا گیا۔

47 سالہ قاری محمد اقبال جو پونچھ کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے ایک مدرس تھے، 7 مئی کو پاک بھارت کشیدگی میں شہید ہوگئے تھے۔ تاہم ان کی شہادت کے بعد بھارتی میڈیا نے ایک منظم مہم کے تحت ان پر دہشتگردی کے جھوٹے الزامات عائد کیے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی میڈیا کا پاکستان کو چین کی ذیلی ریاست ظاہر کرنے کا پروپیگنڈا بے نقاب

بھارتی میڈیا کے مختلف چینلز نے قاری محمد اقبال کو مختلف انداز میں بدنام کیا۔ سی این این نیوز 18 نے انہیں پلوامہ حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ نیوز 18 انڈیا نے انہیں لشکر کمانڈر کہہ کر آزاد کشمیر میں دہشتگردی کے مبینہ اڈوں سے جوڑا۔

اسی طرح زی نیوز نے انہیں نوجوانوں کو دہشتگرد بنانے والا اور این آئی اے کا سب سے مطلوب دہشتگرد قرار دیا، جبکہ ریپبلک ٹی وی نے انہیں لشکر طیبہ کا اہم کمانڈر ظاہر کیا۔

عدالت میں 2 ماہ تک جاری قانونی جدوجہد اور عوامی دباؤ کے بعد پونچھ کی عدالت نے واضح طور پر قرار دیا کہ قاری محمد اقبال دہشتگرد نہیں بلکہ ایک استاد تھے۔ عدالت نے بھارتی میڈیا کے ان بے بنیاد الزامات کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ انہیں صحافتی بددیانتی کی بدترین مثال قرار دیا۔

فیصلے میں زی نیوز اور نیوز 18 انڈیا کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت کے مطابق ان اداروں نے بغیر کسی ثبوت کے قاری محمد اقبال کی شہرت کو نقصان پہنچایا اور جھوٹے بیانیے کے ذریعے عوام کو گمراہ کیا۔

یہ واقعہ بھارتی میڈیا کے اس منفی رجحان کو بے نقاب کرتا ہے جہاں مسلمان شناخت رکھنے والے افراد کو بغیر تحقیق محض ریاستی بیانیے کے تحت دہشتگرد قرار دیا جاتا ہے۔ قاری اقبال جیسے بے گناہ افراد کو نشانہ بنا کر میڈیا نے اپنے سیاسی عزائم اور قوم پرستانہ ایجنڈے کو ترجیح دی، جس سے انسانی وقار، مذہبی ہم آہنگی اور صحافتی اخلاقیات بری طرح متاثر ہوئیں۔

اس پورے واقعے سے یہ واضح ہو گیا کہ ہندوستانی میڈیا نے خود کو خبر رساں ادارے سے زیادہ ایک سیاسی ہتھیار میں تبدیل کرلیا ہے جو حکومت کے نظریاتی ایجنڈے کی ترویج کرتا ہے، اور جس میں کشمیری مسلمانوں کو ظلم و زیادتی کا شکار بنانا معمول کا عمل ہے۔

آج کے بھارت میں محب وطن کی تعریف صرف اس وقت دی جاتی ہے جب کوئی شخص ہندو قوم پرستی کے بیانیے کو قبول کرے، ورنہ وہ ملک دشمن سمجھا جاتا ہے۔ معصوم افراد کو جھوٹے الزامات کے تحت مجرم بنانا اور ان کے خاندانوں کو ذہنی اور سماجی اذیت میں مبتلا کرنا اس میڈیا دہشتگردی کی ایک تلخ حقیقت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی شہروں پر قبضے سے متعلق بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈا، مگر حقیقت کیا ہے؟

یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صحافت کی جگہ پروپیگنڈے نے لے لی ہے اور انسانی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا عام ہو چکا ہے، جس کی بدولت نہ صرف ایک انسان کی شہرت تباہ ہوتی ہے بلکہ پورے معاشرے میں فرقہ واریت اور نفرت کو بھی ہوا دی جاتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بھارتی میڈیا پاک بھارت کشیدگی پروپیگنڈا پونچھ سچ عدالت مقدمہ میڈیا ہاؤسز وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا پاک بھارت کشیدگی پروپیگنڈا پونچھ عدالت میڈیا ہاؤسز وی نیوز قاری محمد اقبال بھارتی میڈیا نے انہیں قرار دیا کے خلاف نیوز 18

پڑھیں:

ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے

بھارت میں جاری طلبہ احتجاج کے دوران معروف کھلاڑی بھی طلبہ کے حق میں سامنے آ گئے ہیں۔ کرکٹ لیجنڈ سچن ٹنڈولکر، اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا، یوراج سنگھ، شیکھر دھون، محمد کیف، میرابائی چانو، ونیش پھوگاٹ اور منو بھاکر نے شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی نظامِ تعلیم کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مؤثر اصلاحات کی اپیل کی ہے۔

سچن ٹنڈولکر نے اپنے مرحوم والد جو پیشے کے اعتبار سے پروفیسر تھے کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’ناکامی قابلِ قبول ہے لیکن دھوکہ دہی نہیں۔ کبھی بھی شارٹ کٹ اختیار نہ کریں‘۔

یہ بھی پڑھیں: معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی

انہوں نے مزید کہا کہ بطور معاشرہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ایسی اقدار کو فروغ دیں جہاں محنت کو نتائج پر ترجیح دی جائے۔ انہوں نے لکھا اگر معاشرہ محنت کے بجائے صرف نتائج کو اہمیت دے گا تو لوگ میرٹ کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کریں گے۔ آج اگر طلبہ کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ان کی محنت کا صلہ نہیں ملا تو یہ قابلِ فہم ہے۔ ہمیں مل کر ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں انہیں دوبارہ ایسا محسوس نہ ہو۔

سچن نے کہا کہ بھارت کے نوجوان خوابوں اور توانائی سے بھرپور ہیں اور والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں، منتظمین اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسا ماحول قائم کیا جائے جہاں محنت کا صلہ ملے، دیانت داری کی حوصلہ افزائی ہو اور میرٹ کامیاب ہو۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مودی حکومت کے خلاف بڑھتا احتجاج، سلمان خان بھی شامل ہوگئے

اولمپک گولڈ میڈلسٹ ابھینو بندرا نے بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کو سیاست سے بالاتر ہونا چاہیے۔

انہوں نے لکھا کہ ’میں نے خود کو کبھی سیاسی شخصیت نہیں سمجھا لیکن میرا یقین ہے کہ کچھ معاملات ہم سب کے ہیں، چاہے ہمارے نظریات کچھ بھی ہوں۔ تعلیم انہی میں سے ایک ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ کسی قوم کی اصل طاقت صرف اس کی معیشت یا کامیابیوں میں نہیں بلکہ اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے نوجوانوں کو کتنے بہتر مواقع فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ہاتھ کھڑے کردیے، ایران کو الٹی میٹم، کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج سے مودی پریشان، نواز شریف کی انوکھی خواہش

ان کے مطابق ایسا نظامِ تعلیم جو اعتماد پیدا کرے، میرٹ کو فروغ دے اور تجسس کی حوصلہ افزائی کرے کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔ ہمیں مل کر اپنے تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ یہ آنے والی نسلوں کے لیے امید، مواقع اور جدت کا ذریعہ بن سکے۔

اولمپک سلور میڈلسٹ میرابائی چانو نے بھی مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت سی اچھی چیزیں بھی ہو رہی ہیں لیکن کچھ افسوسناک واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ جب ہم ایسے واقعات دیکھتے یا سنتے ہیں تو دکھ ہوتا ہے اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ میں نے دہلی میں طلبہ کے احتجاج کے بارے میں سنا ہے میرا خیال ہے کہ وہ درست کام کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج میں تقسیم، اہلکار مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا حصہ بن گئے

سابق بھارتی آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے اپنے پیغام میں کہا ہر بچے، ہر طالب علم، ہر عورت اور ہر مرد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پُرامن ماحول میں تعلیم حاصل کرے، محفوظ رہے اور اپنے خواب پورے کرے۔ آپ کی فلاح و بہبود ہی روشن بھارت کی بنیاد ہے۔ بات چیت کے ذریعے ہم بھارت کے مستقبل کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کر سکتے ہیں۔

سابق اوپنر شکھر دھون نے بھی طلبہ کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خوابوں کو سمجھنا ضروری ہے، لیکن مشکل وقت میں صبر اور ملک کے اداروں اور حکومت پر اعتماد برقرار رکھنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر مسئلے کا حل صبر سے نکلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت میں طلبا احتجاج نہیں، ہندتوا فاشسٹ سوچ کے خلاف بغاوت ہوئی ہے، سابق سینیٹر مشاہد حسین سید

سابق کرکٹر محمد کیف نے کہا کہ ایک باپ ہونے کے ناطے مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوتی ہے کہ تعلیم کے نظام میں خامیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس طاقت استعمال کر رہی ہے۔ دہلی کی سڑکوں پر طلبہ پر لاٹھیاں برسنا بند ہونا چاہیے۔ مجھے امید ہے کہ اس مسئلے کا جلد حل نکلے گا۔

ریسلر ونیش پھوگاٹ نے احتجاجی مقام پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر کی تصاویر نے انہیں شدید صدمہ پہنچایا۔ انہوں نے کہا جب ملک کے طلبہ اپنے مستقبل، اپنے حقوق اور اپنے خوابوں کے لیے سڑکوں پر نکلے تو انہیں عزت کے بجائے خوف اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار ’ستلج ‘ کے بعد’دی انڈیا اسٹوری‘ سے بھی ڈرنے لگی، سبب کیا نکلا؟

انہوں نے مظاہرین پر زور دیا کہ وہ ہر حال میں پرامن رہیں اور کہا آپ کی سب سے بڑی طاقت آپ کا صبر، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد ہے۔ پیچھے مت ہٹیں، تاریخ ایک بار پھر کروٹ لے رہی ہے۔

سب سے پہلے آواز بلند کرنے والے کھلاڑیوں میں اولمپک شوٹر منو بھاکر بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سیاست سے بالاتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں بلکہ ہمارے ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔ میں خود ایک طالبہ رہی ہوں اور ہم سب کبھی نہ کبھی طالب علم رہے ہیں۔ ہر بچے کو تعلیم، تحفظ اور زندگی میں مساوی مواقع ملنے چاہییں۔ یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ بنیادی حقوق ہیں۔ جن طلبہ اور بچوں نے اپنی جانیں گنوائیں، وہی اس ملک کا مستقبل تھے۔ ان کے خواب، ان کی صلاحیتیں اور ان کا مستقبل محفوظ ہونا چاہیے تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈیا انڈیا احتجاج بھارتی کرکٹر سچن ٹنڈولکر کاکروچ جنتا پارٹی مودی

متعلقہ مضامین

  • ریاست مخالف ٹوئٹ کیس: پی ٹی آئی کارکن صنم جاوید اور فلک جاوید کے جیل ٹرائل کےلیے دائر درخواست خارج
  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • ABN نیوز نے مبینہ جعلی بین الاقوامی ویکسینیشن سرٹیفکیٹ نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار