Islam Times:
2026-07-24@01:59:24 GMT

ایران سے جنگ کے بعد اسرائیل میں شدید اقتصادی بحران

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

ایران سے جنگ کے بعد اسرائیل میں شدید اقتصادی بحران

اسلام ٹائمز: اخبار کیلکولیسٹ کی ویب سائٹ نے اس بارے میں لکھا: "قیمتوں میں اضافہ رکا نہیں ہے اور بڑی کمپنیوں کے علاوہ پرچون کی دکانوں نے بھی اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ بعض نے پرانی چیزیں نئے ناموں سے بیچنا شروع کر دی ہیں۔ اکثر کمپنیوں نے کنسیشن کم کر دی ہے اور قیمتیں تعین کرنے کا طریقہ کار بھی بدل دیا ہے۔" قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت انجام پا رہا ہے جب صیہونی آبادکار جنگی حالات کے باعث کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی سپر مارکیٹس اور دکانیں خالی ہو گئی تھیں اور غذائی اشیاء کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا ایک سبب غذائی اشیاء کی شدید قلت بھی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اکثر صیہونی آبادکار جو جنگ سے پہلے مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر چلے گئے تھے واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ تحریر: فاطمہ محمدی
 
ایران کے خلاف جنگ نے پورے مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی رژیم پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔ ان کا ایک نتیجہ وسیع پیمانے پر صیہونی آبادکاروں کی اسرائیل چھوڑ کر دیگر ممالک کی جانب سفر کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ایران کے خلاف بارہ روزہ جنگ کے آغاز میں ہی بڑی تعداد میں صیہونی آبادکار اسرائیل چھوڑ کر جانا شروع ہو گئے تھے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ نے ایران کے خلاف جنگ کے سنگین نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: "قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور سیکورٹی خدشات کے باعث کم از کم ایک تہائی اسرائیلی شہری اسرائیل چھوڑ کر چلے جانے کا سوچ رہے ہیں۔" عبرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ چاکلیٹ، کافی، کولڈ ڈرنک، چاول اور چند دیگر زیادہ استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے۔
 
دوسری طرف 52 فیصد اسرائیلی شہریوں نے قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے بعد اپنی مالی حالت ابتر ہو جانے کی خبر دی ہے۔ اقتصادی اخبار کولیکٹو سے وابستہ فیکٹو اسٹریٹجک ریسرچ نامی کمپنی کی جانب سے انجام پانے والے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ذرائع ابلاغ میں بیان کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں صیہونی آبادکاروں کی کھانے پینے کی عادات بھی متاثر ہوئی ہیں اور وہ بہت سی غذائیں چھوڑ دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس سروے میں شرکت کرنے والے افراد کی اکثریت یعنی 95 فیصد نے بتایا کہ خاص طور پر گذشتہ ایک سال کے دوران زندگی کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ان میں سے 30 فیصد نے بتایا کہ وہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے اسرائیل چھوڑ کر چلے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
 
80 فیصد شرکت کرنے والے افراد شدید مہنگائی کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو ٹھہرا رہے تھے اور شدید مالی اور اقتصادی بحران کے باعث اس کی سرزنش کرنے میں مصروف تھے۔ مختلف رپورٹس میں شائع ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی معیشت شدید جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ 52 فیصد شرکت کرنے والے افراد نے اپنی مالی حالت شدید خراب ہونے کی اطلاع دی ہے جبکہ 25 فیصد کا کہنا تھا کہ زندگی کے اخراجات کے لیے وہ اپنے اہلخانہ، دوستوں یا فلاحی مراکز پر انحصار کر رہے ہیں۔ شرکت کرنے والے تمام افراد اس بات پر اتفاق نظر رکھتے تھے کہ جنگی حالات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اقتصادی مشکلات نے اسرائیلی شہریوں کا لائف اسٹائل شدید متاثر کر دیا ہے۔
 
اس سروے رپورٹ کے نتائج کی روشنی میں 90 فیصد شرکت کرنے والوں نے بتایا کہ انہوں نے شدید مہنگائی کی بدولت اپنا طرز زندگی تبدیل کر لیا ہے۔ 60 فیصد آبادکاروں کا کہنا تھا کہ اب وہ ہوٹل جا کر کھانا نہیں کھاتے یا ہوٹلنگ میں کمی کر دی ہے کیونکہ قیمتوں میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ 42 فیصد نے کہا کہ انہوں نے سپر مارکیٹس سے خرید میں کمی کر دی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء خریدنا کم کر دی ہیں۔ اسی طرح 36 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ باہر سے کھانا منگوانا بہت کم کر دیا ہے۔ عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران سے جنگ کے بعد اکثر آبادکار توقع کر رہے تھے کہ زندگی معمول پر آ جائے گی لیکن کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ عبرانی اخبار کیلکولیسٹ نے رپورٹ دی ہے کہ یکم جولائی سے قیمیتیں بڑھ جائیں گی۔
 
اخبار کیلکولیسٹ کی ویب سائٹ نے اس بارے میں لکھا: "قیمتوں میں اضافہ رکا نہیں ہے اور بڑی کمپنیوں کے علاوہ پرچون کی دکانوں نے بھی اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ بعض نے پرانی چیزیں نئے ناموں سے بیچنا شروع کر دی ہیں۔ اکثر کمپنیوں نے کنسیشن کم کر دی ہے اور قیمتیں تعین کرنے کا طریقہ کار بھی بدل دیا ہے۔" قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت انجام پا رہا ہے جب صیہونی آبادکار جنگی حالات کے باعث کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی سپر مارکیٹس اور دکانیں خالی ہو گئی تھیں اور غذائی اشیاء کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا ایک سبب غذائی اشیاء کی شدید قلت بھی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اکثر صیہونی آبادکار جو جنگ سے پہلے مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر چلے گئے تھے واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
 
دوسری طرف صیہونی ذرائع ابلاغ پر لاگو شدید سینسرشپ کے باوجود ایران کے خلاف جنگ میں صیہونی رژیم کو پہنچنے والے شدید نقصانات منظرعام پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد صیہونی ذرائع ابلاغ کنٹرول شدہ معلومات دھیرے دھیرے اور مرحلہ وار منظرعام پر لا رہے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں صیہونی میڈیا پر شائع ہونے والی اقتصادی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے میزائل حملوں نے مختلف فوجی اور دیگر مراکز کو 12 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالواسطہ طور پر پہنچنے والے نقصانات کو بھی شامل کیا جائے تو یہ رقم 20 ارب ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔ عبرانی اخبار یدیعوت آحارنوت کے مطابق صرف حکومتی خزانے کو ایران کے خلاف جنگ میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غذائی اشیاء کی شدید قلت کھانے پینے کی اشیاء ایران کے خلاف جنگ قیمتوں میں اضافہ اسرائیل چھوڑ کر صیہونی آبادکار شرکت کرنے والے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ چھوڑ کر چلے میں صیہونی ہونے والی کے مطابق کر دی ہے کے باعث جنگ کے دیا ہے ہو گئی کے بعد ہے اور دی ہیں

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم