Islam Times:
2026-06-03@03:22:35 GMT

ایران سے جنگ کے بعد اسرائیل میں شدید اقتصادی بحران

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

ایران سے جنگ کے بعد اسرائیل میں شدید اقتصادی بحران

اسلام ٹائمز: اخبار کیلکولیسٹ کی ویب سائٹ نے اس بارے میں لکھا: "قیمتوں میں اضافہ رکا نہیں ہے اور بڑی کمپنیوں کے علاوہ پرچون کی دکانوں نے بھی اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ بعض نے پرانی چیزیں نئے ناموں سے بیچنا شروع کر دی ہیں۔ اکثر کمپنیوں نے کنسیشن کم کر دی ہے اور قیمتیں تعین کرنے کا طریقہ کار بھی بدل دیا ہے۔" قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت انجام پا رہا ہے جب صیہونی آبادکار جنگی حالات کے باعث کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی سپر مارکیٹس اور دکانیں خالی ہو گئی تھیں اور غذائی اشیاء کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا ایک سبب غذائی اشیاء کی شدید قلت بھی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اکثر صیہونی آبادکار جو جنگ سے پہلے مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر چلے گئے تھے واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ تحریر: فاطمہ محمدی
 
ایران کے خلاف جنگ نے پورے مقبوضہ فلسطین میں غاصب صیہونی رژیم پر کاری ضربیں لگائی ہیں۔ ان کا ایک نتیجہ وسیع پیمانے پر صیہونی آبادکاروں کی اسرائیل چھوڑ کر دیگر ممالک کی جانب سفر کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ایران کے خلاف بارہ روزہ جنگ کے آغاز میں ہی بڑی تعداد میں صیہونی آبادکار اسرائیل چھوڑ کر جانا شروع ہو گئے تھے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ نے ایران کے خلاف جنگ کے سنگین نتائج کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: "قیمتوں میں بے پناہ اضافہ اور سیکورٹی خدشات کے باعث کم از کم ایک تہائی اسرائیلی شہری اسرائیل چھوڑ کر چلے جانے کا سوچ رہے ہیں۔" عبرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ چاکلیٹ، کافی، کولڈ ڈرنک، چاول اور چند دیگر زیادہ استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں نہیں بڑھائیں گے۔
 
دوسری طرف 52 فیصد اسرائیلی شہریوں نے قیمتوں میں بہت زیادہ اضافے کے بعد اپنی مالی حالت ابتر ہو جانے کی خبر دی ہے۔ اقتصادی اخبار کولیکٹو سے وابستہ فیکٹو اسٹریٹجک ریسرچ نامی کمپنی کی جانب سے انجام پانے والے سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ غذائی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ذرائع ابلاغ میں بیان کیا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں صیہونی آبادکاروں کی کھانے پینے کی عادات بھی متاثر ہوئی ہیں اور وہ بہت سی غذائیں چھوڑ دینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس سروے میں شرکت کرنے والے افراد کی اکثریت یعنی 95 فیصد نے بتایا کہ خاص طور پر گذشتہ ایک سال کے دوران زندگی کے اخراجات میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح ان میں سے 30 فیصد نے بتایا کہ وہ اقتصادی مسائل کی وجہ سے اسرائیل چھوڑ کر چلے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
 
80 فیصد شرکت کرنے والے افراد شدید مہنگائی کا ذمہ دار موجودہ حکومت کو ٹھہرا رہے تھے اور شدید مالی اور اقتصادی بحران کے باعث اس کی سرزنش کرنے میں مصروف تھے۔ مختلف رپورٹس میں شائع ہونے والے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی معیشت شدید جمود کا شکار ہو چکی ہے۔ 52 فیصد شرکت کرنے والے افراد نے اپنی مالی حالت شدید خراب ہونے کی اطلاع دی ہے جبکہ 25 فیصد کا کہنا تھا کہ زندگی کے اخراجات کے لیے وہ اپنے اہلخانہ، دوستوں یا فلاحی مراکز پر انحصار کر رہے ہیں۔ شرکت کرنے والے تمام افراد اس بات پر اتفاق نظر رکھتے تھے کہ جنگی حالات اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اقتصادی مشکلات نے اسرائیلی شہریوں کا لائف اسٹائل شدید متاثر کر دیا ہے۔
 
اس سروے رپورٹ کے نتائج کی روشنی میں 90 فیصد شرکت کرنے والوں نے بتایا کہ انہوں نے شدید مہنگائی کی بدولت اپنا طرز زندگی تبدیل کر لیا ہے۔ 60 فیصد آبادکاروں کا کہنا تھا کہ اب وہ ہوٹل جا کر کھانا نہیں کھاتے یا ہوٹلنگ میں کمی کر دی ہے کیونکہ قیمتوں میں شدید اضافہ ہو گیا ہے۔ 42 فیصد نے کہا کہ انہوں نے سپر مارکیٹس سے خرید میں کمی کر دی ہے اور کھانے پینے کی اشیاء خریدنا کم کر دی ہیں۔ اسی طرح 36 فیصد افراد نے بتایا کہ وہ باہر سے کھانا منگوانا بہت کم کر دیا ہے۔ عبرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ایران سے جنگ کے بعد اکثر آبادکار توقع کر رہے تھے کہ زندگی معمول پر آ جائے گی لیکن کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ عبرانی اخبار کیلکولیسٹ نے رپورٹ دی ہے کہ یکم جولائی سے قیمیتیں بڑھ جائیں گی۔
 
اخبار کیلکولیسٹ کی ویب سائٹ نے اس بارے میں لکھا: "قیمتوں میں اضافہ رکا نہیں ہے اور بڑی کمپنیوں کے علاوہ پرچون کی دکانوں نے بھی اپنی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ بعض نے پرانی چیزیں نئے ناموں سے بیچنا شروع کر دی ہیں۔ اکثر کمپنیوں نے کنسیشن کم کر دی ہے اور قیمتیں تعین کرنے کا طریقہ کار بھی بدل دیا ہے۔" قیمتوں میں اضافہ ایسے وقت انجام پا رہا ہے جب صیہونی آبادکار جنگی حالات کے باعث کھانے پینے کی اشیاء ذخیرہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی سپر مارکیٹس اور دکانیں خالی ہو گئی تھیں اور غذائی اشیاء کی شدید قلت ہو گئی تھی۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافے کا ایک سبب غذائی اشیاء کی شدید قلت بھی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اکثر صیہونی آبادکار جو جنگ سے پہلے مقبوضہ فلسطین چھوڑ کر چلے گئے تھے واپس آنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
 
دوسری طرف صیہونی ذرائع ابلاغ پر لاگو شدید سینسرشپ کے باوجود ایران کے خلاف جنگ میں صیہونی رژیم کو پہنچنے والے شدید نقصانات منظرعام پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔ جنگ بندی کے بعد صیہونی ذرائع ابلاغ کنٹرول شدہ معلومات دھیرے دھیرے اور مرحلہ وار منظرعام پر لا رہے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں صیہونی میڈیا پر شائع ہونے والی اقتصادی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے میزائل حملوں نے مختلف فوجی اور دیگر مراکز کو 12 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا ہے۔ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بالواسطہ طور پر پہنچنے والے نقصانات کو بھی شامل کیا جائے تو یہ رقم 20 ارب ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔ عبرانی اخبار یدیعوت آحارنوت کے مطابق صرف حکومتی خزانے کو ایران کے خلاف جنگ میں 7 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: غذائی اشیاء کی شدید قلت کھانے پینے کی اشیاء ایران کے خلاف جنگ قیمتوں میں اضافہ اسرائیل چھوڑ کر صیہونی آبادکار شرکت کرنے والے ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ چھوڑ کر چلے میں صیہونی ہونے والی کے مطابق کر دی ہے کے باعث جنگ کے دیا ہے ہو گئی کے بعد ہے اور دی ہیں

پڑھیں:

پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے لاہور سمیت صوبہ بھر میں شہریوں کو دی جانے والی مفت سفری سہولت کے مستقبل سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور شروع کر دیا ۔ ذرائع کے مطابق مفت سفری سہولت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ محکمہ ٹرانسپورٹ کی جانب سے وزیراعلی پنجاب کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ اگر پیٹرول کی قیمتیں 300روپے فی لیٹر تک پہنچ جاتی ہیں تو مفت سفری سہولت فوری طور پر ختم کیے جانے کا امکان ہے، اس حوالے سے آئندہ ہفتے حتمی فیصلہ متوقع ہے۔

لاہور سمیت صوبہ بھر میں دی گئی مفت سفری سہولت میں مزید توسیع نہ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،اس کے ساتھ یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مفت سفر کی سہولت جلد ختم کر دی جائے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران صوبہ بھر میں 7کروڑ سے زائد مسافروں نے اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔یہ مفت سفری سہولت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث متعارف کروائی گئی تھی اور اس کا اطلاق مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز پر کیا گیا تھا جن میں میٹرو بس، اورنج لائن ٹرین، الیکٹرو بس ،سپیڈو بس سروس سروس شامل تھیں۔

حکام کے مطابق موجودہ معاشی صورتحال اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھا کو مدنظر رکھتے ہوئے اس پالیسی کا دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ حتمی فیصلہ اعلی سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا