پختونخوا میں گرج چمک کیساتھ موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی، ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا میں گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے جب کہ ساتھ ہی ندی نالوں میں طغیانی کا الرٹ بھی جاری کردیا گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت پشاور اور گردونواح میں صبح سویرے تیز ہواؤں کے ساتھ ہونے والی بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا۔ اس دوران شہر میں ہوائیں چلتی رہیں، جس سے گرمی کی شدت کم ہوگئی۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مزید گرج چمک اور تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
دیر بالا، دیر زیریں، سوات، بونیر، مالاکنڈ، باجوڑ، بٹگرام، شانگلہ اور کوہستان کے علاقوں میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جب کہ تورغر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور، کرم اور مہمند میں بھی بعض مقامات پر موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔
اسی طرح چترال، خیبر اورکزئی، پشاور، مردان، صوابی، نوشہرہ اور چارسدہ کے اضلاع میں بھی تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ کوہاٹ، ہنگو، بنوں، کرک، لکی مروت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں بھی بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے مختلف مقامات پر بھی گرج چمک اور ہواؤں کے ساتھ بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں کابل، سوات اور پنجکوڑہ ندیوں میں سیلاب کا خطرہ ہے جب کہ صوابی، مردان، مانسہرہ، کوہستان، دیر، سوات اور شانگلہ کے مقامی ندی نالوں میں بھی طغیانی آ سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث سڑکوں کی بندش کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
موسم کی تبدیلی کے دوران مختلف علاقوں کا درجہ حرارت بھی ریکارڈ کیا گیا ہے، جس میں پشاور کا درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ، ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں کا 42 ڈگری، چترال 39، میر کھنی چترال 41، دروش چترال 40، دیر بالا 37، دیر لوئر 34، کالام 29 اور مالم جبہ 25 ڈگری سینٹی گریڈ رہا۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں کو ممکنہ بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہواؤں کے ساتھ کے ساتھ بارش تیز ہواؤں میں بھی گیا ہے
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔