بھارت کے ساتھ تجارتی ڈیل ہونے کا امکان ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جاپان کیساتھ تجارتی معاہدہ ہونے پر شبہ ہے۔ شاید جاپان سے ڈیل نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان سے درآمدات پر ٹیرف 30 یا 35 فیصد یا کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ ڈیل کا امکان ہے۔ اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جاپان کے ساتھ تجارتی معاہدہ ہونے پر شبہ ہے۔ شاید جاپان سے ڈیل نہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان سے درآمدات پر ٹیرف 30 یا 35 فیصد یا کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک سے تجارتی معاہدوں کے لیے 9 جولائی کی ڈیڈ لائن بڑھانے سے انکار کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ کہ جاپان جاپان سے نے کہا
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔