UrduPoint:
2026-06-03@03:22:01 GMT

’لامہ‘ جانشینی کا سلسلہ جاری رہے گا، دلائی لامہ

اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT

’لامہ‘ جانشینی کا سلسلہ جاری رہے گا، دلائی لامہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جولائی 2025ء) دلائی لامہ نے اپنی 90 ویں سالگرہ سے کچھ دن پہلے بدھ کے روز اس بات کی تصدیق کی کہ ان کا جانشین ہو گا۔ وہ بھارت کے شہر دھرم شالہ میں، جہاں وہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں، روحانی پیشواؤں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔

تبت کے روحانی پیشوا دلائی لامہ نے بدھ کو کہا کہ بدھ مت کا 'لامہ‘ یعنی روحانی پیشوا کا ادارہ ان کی موت کے بعد بھی جاری رہے گا۔

’بدھ مت کا تبتی نظریہ میرے بعد بھی برقرار رہے گا‘، دلائی لامہ

بھارت کے پہاڑی قصبے دھرم شالہ سے تبتی زبان میں نشر ہونے والی ایک ویڈیو میں انہوں نے کہا ''میں اس بات کی تصدیق کر رہا ہوں کہ دلائی لامہ کا ادارہ جاری رہے گا۔‘‘

نوبل امن انعام یافتہ دلائی لامہ ہمالیائی قصبے میں مذہبی رہنماؤں کے اجلاس کے آغاز پر خطاب کر رہے تھے، جہاں وہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔

(جاری ہے)

دلائی لامہ 1959 میں چینی حکمرانی کے خلاف ناکام بغاوت کے بعد تبت کے دارالحکومت لہاسا سے فرار ہو گئے تھے۔ تب سے وہ بھارت میں مقیم ہیں، جہاں تبت کی جلاوطن حکومت بھی قائم تھی۔

یہ فیصلہ اہم کیوں ہے؟

جب سے 'لامہ‘ کا یہ ادارہ 1587 میں شروع ہوا تینزن گیاتسو چودہویں دلائی لامہ ہیں۔

تبتی بدھسٹ انہیں 'رحمدلی کے بودھی ستوا‘ کا اوتار مانتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ ایسا شخص اس جسم کا انتخاب کر سکتا ہے جس میں وہ دوبارہ جنم لینا چاہتا ہے۔

بدھ مت میں، 'بودھی ستوا‘ کا مطلب ایک روشن خیال وجود ہے جس نے دوسروں کی مدد کے لیے ’زندگی کے چکر‘ میں رہنے کا انتخاب کیا ہے۔

اپنے ویڈیو پیغام میں دلائی لامہ نے کہا کہ انہیں تبت، منگولیا، روس اور چین کے کچھ حصوں اور اس سے آگے کے بدھ مت کے ماننے والوں کی جانب سے ادارے کے تسلسل کو یقینی بنانے کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہا، ''خاص طور پر، مجھے تبت میں تبتیوں کی طرف سے مختلف چینلز کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے ہیں، جس میں یہی اپیل کی گئی ہے۔‘‘

دلائی لامہ کی طرف سے بدھ کے روز اس اعلان نے برسوں کی ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ کر دیا کہ چودہویں دلائی لامہ اس عہدے پر فائز ہونے والے آخری فرد ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے اوتار کو تسلیم کرنے کا واحد اختیار دلائی لامہ کے قائم کردہ گڈن فوڈرنگ ٹرسٹ کے پاس ہو گا۔

دلائی لامہ نے کہا، ''انہیں اس کے مطابق تلاش اور شناخت کے طریقہ کار کو ماضی کی روایت کے مطابق انجام دینا چاہیے.

.. کسی اور کے پاس اس معاملے میں مداخلت کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔‘‘

دلائی لامہ دنیا کی نگاہ میں

دنیا بھر میں دلائی لامہ کو عدم تشدد، ہمدردی اور چینی حکمرانی کے خلاف تبتی جدوجہد کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

’بوسہ تنازعہ‘ کیا دلائی لامہ کی ساکھ کمزور ہو گئی؟

سن دو ہزار تیئیس میں ایک بچے کے ہونٹوں پر چومنے پر انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس کے لیے انہوں نے بعد میں معافی مانگ لی تھی۔

چین انہیں ایک علیحدگی پسند اور باغی کے طور پر دیکھتا ہے۔ جلاوطن تبتی اس بات سے خوفزدہ ہیں کہ چین تبت کے خود مختار علاقے پر مزید کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش میں دلائی لامہ کے اپنے پسندیدہ جانشین کا منظر عام پر لاسکتا ہے۔

دلائی لامہ نے پہلے کہا تھا کہ ان کا جانشین چین سے باہر پیدا ہو گا، اور پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ بیجنگ کے منتخب کردہ کسی بھی 'لامہ‘ کو مسترد کردیں۔

ادارت: صلاح الدین زین

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دلائی لامہ نے انہوں نے رہے گا نے کہا

پڑھیں:

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری

جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبائی محکمہ صحت کی تشویش میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان کے ’نشتر اسپتال‘ میں اب تک منکی پاکس کے 4 مریضوں کی باقاعدہ تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسپتال اور گردونواح میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

آئسولیشن وارڈ میں مریضوں کی تعداد اور آبائی علاقے

نشتر اسپتال انتظامیہ کے مطابق حال ہی میں ایک اور مشتبہ مریض کو وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر خصوصی آئسولیشن وارڈ میں داخل کر لیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سندھ میں منکی پاکس کے کیسز میں اضافہ، 9 اموات کی تصدیق

اس نئے کیس کے بعد وارڈ میں زیرِ علاج اور کڑی نگرانی میں رکھے گئے مریضوں کی مجموعی تعداد 5 ہو گئی ہے۔ اسپتال حکام کا کہنا ہے کہ جن مریضوں میں ’منکی پاکس‘ کی تصدیق ہوئی ہے ان کا تعلق جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع بالخصوص ملتان، مظفرگڑھ اور وہاڑی سے ہے۔

اسپتال انتظامیہ کے اقدامات اور ٹیسٹنگ

اسپتال کے وبائی امراض کے ماہرین اور انتظامیہ کا کہنا ہے کہ منکی پاکس کے تصدیق شدہ مریضوں کے علاج اور دیکھ بھال پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ان کی جلد صحت یابی ممکن ہو سکے۔

دوسری جانب، نئے آنے والے مشتبہ مریض کے خون اور زخموں کے نمونے (سیمپلز) حتمی جانچ اور تصدیق کے لیے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں، جن کی رپورٹ اگلے چند روز میں موصول ہونے کا امکان ہے۔

محکمہ صحت کی نگرانی اور احتیاطی تدابیر کی اپیل

محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام نے عوام الناس کو وبائی مرض سے بچنے کے لیے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں منکی پاکس: بیوی کے بعد شوہر بھی لپیٹ میں آگیا

ترجمان محکمہ صحت کے مطابق خطے میں صورتحال کی مسلسل اور سخت نگرانی کی جا رہی ہے اور اس موذی بیماری کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضلعی سطح پر تمام ضروری اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر جاری ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتیاطی تدابیر اسپتال اقدامات ٹیسٹنگ جنوبی پنجاب خون زخموں لیبارٹری محکمہ صحت منکی پاکس نگرانی۔ نمونے

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • جنوبی پنجاب میں منکی پاکس کا پھیلاؤ، 4 مریض اسپتال داخل، الرٹ جاری
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا