باجوڑ میں دھماکہ، اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4 افراد شہید 11زخمی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
باجوڑ(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02جولائی 2025)خیبرپختونخواہ کے علاقہ باجوڑ میں دھماکہ،،اسسٹنٹ کمشنر سمیت 4افراد جاں بحق 11زخمی ہوگئے،واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اہلکار اور پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی،زخمیوں و لاشوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیاگیا،بتایاگیا ہے کہ افسوسناک واقعہ باجوڑ کے علاقے تحصیل خار میں صدیق آباد پھاٹک کے قریب ہوا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق شہیدہونیوالوں میں اسسٹنٹ کمشنر، تحصیلدار،صوبیدار اور ایک پولیس اہلکاربھی شامل ہیں۔(جاری ہے)
دھماکے میں سرکاری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔پولیس ذرائع کا بھی کہنا ہے کہ دھماکے میں اسسٹنٹ کمشنر کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے تاہم زخمیوں کو فوری قریبی ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔پولیس اور سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق باجوڑ کی تحصیل خار کے علاقے صادق آباد پھاٹک میں گاڑی کے قریب بارودی مواد کا دھماکا ہوا ہے جس میں چار افراد جام شہادت نوش کر گئے جبکہ 11 زخمی ہیں۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو ٹیمیں امدادی کارروائی میں مصروف ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔