کراچی، درخشاں پولیس مقابلے میں زخمی ملزم جناح اسپتال سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
کراچی:
شہر قائد کے پوش علاقے ڈیفنس میں درخشاں پولیس اور چار رکنی ڈکیت گینگ کے درمیان مبینہ مقابلے کے بعد زخمی ہونے والا ڈاکو جناح اسپتال میں جھوٹ بول کر طبی امداد حاصل کر رہا تھا، جسے صدر پولیس نے ہوشیاری سے گرفتار کر لیا۔
ملزم کے دیگر تین ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے شہر میں چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان مقابلہ خیابانِ شاہین کے قریب ہوا، جس میں ایک ڈاکو زخمی ہوا، تاہم اس کے تین ساتھی اسے لے کر موقع سے فرار ہو گئے۔ زخمی ملزم طبی امداد کے لیے جناح اسپتال پہنچا اور وہاں عملے کو یہ جھوٹی کہانی سنائی کہ وہ شہری مزاحمت کے دوران زخمی ہوا ہے۔
ادھر پولیس کنٹرول پر مقابلے سے متعلق تفصیلات موصول ہونے کے بعد صدر پولیس نے جناح اسپتال میں موجود مشتبہ زخمی شخص سے سوالات کیے، جن میں وہ گھبراہٹ کا شکار ہو گیا۔ شک کی بنیاد پر فوری طور پر درخشاں پولیس کو اطلاع دی گئی، جنہوں نے اسپتال پہنچ کر ملزم کو شناخت کر لیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار زخمی ملزم کی شناخت مبشر ولد رشید احمد کے نام سے ہوئی ہے، جس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور اسے جناح اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جناح اسپتال
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔