مظفرگڑھ: سرکاری اسپتال میں غلط انجکشن کے باعث بچی جاں بحق، انکوائری رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
علامتی فوٹو
مظفرگڑھ کے سرکاری اسپتال میں غلط انجکشن کے باعث جاں بحق ہونے والی بچی کی انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی۔ رپورٹ میں ڈیوٹی ڈاکٹر اور ڈسپنسر کو بچی کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔
انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈسپنسر نے ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر بچی کو غلط انجکشن لگایا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی جبکہ ڈاکٹر نے ڈیوٹی پر موجود ہونے کے باوجود غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔
ملزم ڈسپنسر کو ملازمت سے فارغ جبکہ ڈاکٹر کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 3 روز قبل مظفرگڑھ کے سرکاری اسپتال میں مبینہ طور پر غلط انجکشن لگنے سے 7 سالہ بچی جاں بحق ہوگئی تھی۔
7 سالہ بچی کو پیٹ میں درد کے باعث دیہی مرکز صحت میں لایا گیا تھا۔
بچی کے والد کے مطابق اسپتال میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کی تشخیص پر ڈسپنسر نے بچی کو غلط انجکشن لگایا تھا جس کے بعد بچی کی حالت بگڑنے سے وہ دم توڑ گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسپتال میں
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔