بجٹ میں کمی کے باوجود مریضوں کی بہتر سہولیات دے رہے ہیں،ڈاکٹر علی اکبر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)میڈ یکل سپر نٹنڈ نٹ لیاقت یونیورسٹی اسپتال حیدرآباد /جا مشورو ڈاکٹرعلی اکبر ڈاہری نے کہا ہے کہ اسپتال کے بجٹ اور وسائل کی کمی کے باوجود ہم اسپتال میں مریضوں کو بہتر طبی سہولیات ، ادویات اور آئی سی یو سمیت آپریشن تھیٹرز کے روزانہ لاکھوں روپے کے اخراجات کے ساتھ ساتھ ایم آر آئی اور سٹی ا سکن مشینوں کی مرمت و اسپتال کی تعمیر و ترقی کے امور بھی انجام دے رہے ہیں تاکہ اسپتال میں یکسوئی کے ساتھ مریضوں کو علاج ومعالجہ کی سہولیات بہم فراہم ہوتی رہیں ،ہم بجٹ یا وسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر مریضوں کی دی جانے والی طبی سہولیات میں کمی یا روک نہیں سکتے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسپتال کے ایڈمنسٹریٹو افسران اور مختلف شعبہ جات کے انچارجز کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں اے ایم ایس جنرل ڈاکٹر محمد علی قائم خانی، اے ایم ایس ڈاکٹرنیاز حسین ببر ، اے ایم ایس ڈاکٹر مجیب الرحمن کلوڑ،اے ایم ایس ڈاکٹر مرتضی میمن،اے ایم ایس ڈاکٹر نفیس حیدر چوہان، اے ایم ایس ڈاکٹر علی نواز عباسی، چیف سی ایم او ڈاکٹر سید فرحان الدین ،نرسنگ میٹرن قمرالنساء اور دیگرایڈ منسٹریٹو افسران کے علاوہ اسپتال کے مختلف شعبہ جات کے انچارجز بھی موجود تھے۔ایم ایس ڈاکٹر علی اکبر ڈا ہری نے کہا کہ میں نے اپنی تعیناتی کی قلیل مدت کے دوران شب و روز محنت کے بعد اسپتال کی ایم آر آئی اور سٹی اسکن سمیت دیگر خراب مشنری کو درست کروا کر انہیں مریضوں کے ٹیسٹ کیلئے قابل استعمال بنایا تاکہ اسپتال کے غریب مریضوں کویہ مہنگے ٹیسٹ باہر سے نہ کرانا پڑیں اورانہیں علاج و معالجہ میں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ اسپتال کے سینئر ماہر ڈاکٹرز ،پروفیسر زمریضوں کا علاج معالجہ جدید طریقوں سے آسانی کے ساتھ کر سکیں۔ ایم ایس ڈاکٹر علی اکبرڈاہری نے اجلاس میں موجود تمام ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کو یکم محرم سے 13محرم الحرام تک اسپتال میں جاری ایمرجنسی کے حوالے سے ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ محرم الحرام کے دوران ایمرجنسی پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے ایم ایس ڈاکٹر اسپتال کے ڈاکٹر علی
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔