پشاور:

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبرپختونخوا سے قومی اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے لیے خواتین و اقلیتی نشستوں پر کامیاب امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کی 5 میں سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کو دو، دو جبکہ جمعیت علما اسلام کے حصے میں ایک نشست آئی ہے، خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کے لیے مسلم لیگ (ن) کی غزالہ انجم اور شاہین حبیب اللہ، پیپلز پارٹی کی عاصمہ عالمگیر اور ناعمہ کنول جبکہ جے یو آئی کی جانب سے خیبر پختونخوا سے قومی اسمبلی کے لیے نعیمہ کشورخان نامزد رکن ہیں۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کی 21 خالی نشستوں میں سے 8 جمعیت علما اسلام، 6 مسلم لیگ(ن) کو مل گئی ہیں، خیبرپختونخوا اسمبلی کی خواتین نشستوں میں 5 پیپلز پارٹی جبکہ اے این پی اور پی ٹی آئی پی کو ایک ایک نشست ملی ہے۔

جے یو آئی کے حصے کی 8 نشستوں پر بلقیس، ستارہ آفرین، ایمن جلیل جان، مدینہ گل آفریدی، رابعہ شاہین، نیلوفربیگم، ناہیدہ نور اور عارفہ بی بی، مسلم لیگ (ن) کے حصہ میں آنے والی 6 نشستوں پر آمنہ سردار، فائزہ ملک، افشاں حسین، شازیہ جدون، جمیلہ پراچہ اور فرح خان ایڈوکیٹ، پیپلزپارٹی کے حصہ میں آنے والی 5 نشستوں پر شازیہ طہماس، ساجدہ تبسم، مہرسلطانہ ایڈوکیٹ، اشبرجدون اورفرزانہ شیرین، تحریک انصاف پارلیمنٹرینز کی جانب سے نادیہ شیر جبکہ اے این پی کی جانب سے خدیجہ بی بی نامزدارکان میں شامل ہیں۔

خیبرپختونخوا کی 4 اقلیتی میں سے دو جے یو آئی جبکہ (ن) لیگ اور پی پی کے حصہ میں ایک ، ایک نشست آئی ہے، جے یو آئی کی جانب سے عسکری پرویز اور گورپال سنگھ،(ن)لیگ کی جانب سے سریش کمار جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے بہاری لال نامزد اقلیتی ارکان میں شامل ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: خیبرپختونخوا سے قومی کی جانب سے جے یو ا ئی اسمبلی کی نشستوں پر مسلم لیگ

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن