وزیر خزانہ کا منصفانہ عالمی مالیاتی اصلاحات، ترقیاتی امداد بڑھانے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نےمنصفانہ عالمی مالیاتی اصلاحات اور ترقیاتی امداد بڑھانے کا مطالبہ کردیا۔
اسپین میں چوتھی عالمی فنانس فار ڈیولپمنٹ کانفرنس سے خطاب میں محمد اورنگزیب نے کہا کہ ضرورت مند ملکوں کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ منصفانہ عالمی مالیاتی اصلاحات اور ترقیاتی امداد بڑھانے کا مطالبہ کرتا ہوں، یکجہتی، انصاف اور شمولیت پر مبنی بین الاقوامی مالیاتی نظام کی مضبوطی کیلئے مل کر کوششیں کرنی ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ قرضوں میں اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی سوشل ڈیولپمنٹ مقاصد کے فنڈنگ فرق کو بڑھا رہے ہیں، دوحا اور ادیس ابابا کانفرنسز میں شمولیت کے نظام کی بنیاد ڈالی جاچکی ہے، لیکن بہت کام باقی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ کانفرنس پر کامپرومیسو ڈی سیویلا پر اتفاق اور اس پر عمل درآمد کا منصوبہ خوش آئند ہے، منصوبہ مقامی وسائل بڑھانے، جی ڈی پی کے بجائے دیگر معیار سے مالی رعایت بڑھانا شامل ہے۔
سینیٹر محمد اورنگزیب نے یہ بھی کہا کہ منصوبے میں کثیر جہتی ڈیولپمنٹ بینکوں کی قرض دینے کی صلاحیت کو بڑھانے کی تجویز ہے، منصوبے میں غیراستعمال شدہ ایس ڈی آر کی فراہمی طے شدہ فریم ورک کے ذریعے پہنچانے کی تجویز ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیکویڈٹی اور قرضوں کے عالمی اداریاتی پلیٹ فارم کے قیام کی تجویز پر جلد عمل کرنےکی ضرورت ہے، پائیدار ترقی اور مجموعی خوشحالی کیلئے کامپرومیسو ڈی سیویلا پر عمل کیلئے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔
ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔
عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔
خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔
ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔
I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:
- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements
End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq
فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔
خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔