سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا منصوبہ عالمی اداروں کے تعاون سے مکمل کرینگے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
کراچی:
سینئر وزیرِ سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سمندری پانی کو میٹھا بنانے سمیت دیگر منصوبے عالمی اداروں کے تعاون سے مکمل کریں گے۔
صوبائی بجٹ کے حوالے سے اپنے بیان میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کا ترقیاتی بجٹ صرف رقم کی تقسیم نہیں بلکہ عوامی زندگی کو بہتر بنانے کا ویژن ہے۔ 2025-26 کا ترقیاتی بجٹ پیپلز پارٹی کی عوام دوست پالیسیوں، چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر آصف علی زرداری کے ویژن کا تسلسل ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ 1.
سینئر صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد کے لیے 7، 7 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج فراہم کیا ہے۔ اسی طرح ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں سڑکوں کی بہتری، واٹر سپلائی، ڈرینیج، تعلیم، صحت اور دیگر شہری سہولیات کے منصوبے مکمل کیے جائیں گے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی میں کورنگی کازوے پل کی تعمیر، شاہراہِ بھٹو کی توسیع اور سیف سٹی منصوبے کا دائرہ بڑھانا حکومتی ترجیحات میں ہیں۔ سندھ بھر میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے لیے نمایاں اقدامات کیے گئے ہیں۔ حب کینال کی بحالی کے لیے 3.1 ارب روپے، شہدادکوٹ واٹر سپلائی اسکیم کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں 5 ایم جی ڈی سمندری پانی کو میٹھا بنانے والا پلانٹ اور ٹی پی 4 سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ جیسے منصوبے عالمی اداروں کے تعاون سے مکمل کیے جائیں گے۔ 2لاکھ کسانوں کی مالی معاونت کے ساتھ زراعت کے شعبے میں 33 ارب روپے کی لاگت سے میکانائزیشن پیکیج، ڈرپ اریگیشن سسٹم اور ہارٹیکلچر کلسٹرز متعارف کروائے جارہے ہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ پیپلز ہاؤسنگ اسکیم کے تحت سیلاب متاثرین کے لیے 21 لاکھ گھروں کی تعمیر جاری ہے، جن کے مالکانہ حقوق خواتین کو دے کر انہیں بااختیار بنایا جارہا ہے۔
اسی طرح مختلف صلاحیتوں کے حامل افراد کو سہولیات کی فراہمی، مالی امداد اور بحالی کے لیے 21.7 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ کل 3,642 منصوبوں میں سے 3,161 جاری اسکیمیں اور 481 نئی اسکیمیں شامل ہیں جب کہ 119.5 ارب روپے خصوصی ترقیاتی اقدامات کے لیے رکھے گئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن میمن نے کہا ارب روپے گئے ہیں کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا
کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا۔
اتوار کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کے جبری شٹ ڈاؤن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہوئی جبکہ پیر کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فالٹ کے باعث حب پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہونے سے پانی کی فراہمی مزید کم ہوگئی۔
موجودہ صورتحال میں بوند بوند کو ترستے شہری ٹینکرز مافیا کے ہاتھوں مہنگا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔
کراچی واٹر کارپوریشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حب سے کراچی کو یومیہ 85 ملین گیلن پانی کی فراہمی متاثر ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان مطابق حب پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کی فراہمی متبادل ذرائع سے جاری ہے۔