علی امین گنڈاپور کا 11 کروڑ کے بسکٹ کھانے کے الزام پر ردعمل سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا کہ 11 کروڑ کے بسکٹ کھا گیا، خیبر پختونخوا اور دوسرے وزراء اعلی کے بجٹ کا موازنہ کریں تو معلوم ہوگا بجٹ کس کا زیادہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کا 11 کروڑ کے بسکٹ کھانے کے الزام پر ردعمل سامنے آگیا، انہوں نے کہا ہے کہ میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلی خیبرپختونخوا کی سوشل میڈیا ٹیم سے ملاقات ہوئی جس میں پارٹی امور اور سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ میرے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا کہ 11 کروڑ کے بسکٹ کھا گیا، خیبر پختونخوا اور دوسرے وزراء اعلی کے بجٹ کا موازنہ کریں تو معلوم ہوگا بجٹ کس کا زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے بانی چیئرمین کا پیغام عوام تک پہنچانے کے لیے بہترین کام کسی، آنے والے دنوں میں تحریک شروع کرنی ہے سوشل میڈیا ٹیم کو مزید کام کرنا ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کروڑ کے بسکٹ سوشل میڈیا نے کہا
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔