لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔02جولائی 2025) ٹک ٹاکرکاشف ضمیرکو ایک بارپھر اسلحے کی نمائش کرنے پرگرفتارکرلیا گیا، سی سی ڈی نے کاشف ضمیر کے 13گارڈز کو بھی حراست میں لیکران سے بھی اسلحہ قبضہ میں لے لیا، ٹکرٹاکرکاشف ضمیرکو سی سی ڈی اقبال ٹاؤن  نے گرفتارکیا، کاشف ضمیر اور اس کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف تھانہ سی سی ڈی میں مقدمات درج ہیں۔

ٹک ٹاکر کیخلاف اسلحہ کی نمائش سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج ہوئے۔ کاشف ضمیر کی چندروز سے باوردی مسلح گارڈز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی تھیں جس پرپولیس نے ٹک ٹاکرکاشف ضمیر اور اس کے سیکیورٹی گارڈز کے خلاف تھانہ سی سی ڈی میں مقدمات درج کئے تھے۔ پولیس کی جانب سے کاشف ضمیر کے خلاف اسلحہ کی نمائش سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے تھے۔

(جاری ہے)

ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کی باوردی مسلح گارڈز کی ویڈیوز سوشل میڈیا پروائرل ہورہی تھیں۔ چند روز قبل بھی باٹا پور پولیس نے سوشل میڈیا پر پولیس یونیفارم پہن کر ٹک ٹاک بنانے والا ملزم عدنان علی اورسوشل میڈیا پر اسلحہ کی نمائش کرنے والا ملزم عبدالرحمان کو اسلحہ سمیت گرفتار کر کے مقدمات درج کر لئے تھے پولیس کا کہنا تھا کہ ملزمان نے پولیس یونیفارم پہن کر تصویر اور ناجائز اسلحہ کے ساتھ ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں تھی۔

خیال رہے کہ دوماہ قبل بھی پنجاب پولیس نے پولیس یونیفارم کی تضحیک کرنے پر ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کو گرفتار کیا تھا۔سوشل میڈیاپر وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والا پولیس کانسٹیبل بھی زیرحراست میں لے لیا گیا تھا۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں ایک پولیس اہلکار ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کیلئے پیسوں سے بھری ٹرے تھامے اسٹیج کے پاس کھڑا ہے اور ٹک ٹاکر اس ٹرے سے پیسے اٹھا کر قوال اور رقصاؤں پر نچھاور کر رہاتھا۔

ویڈیووائرل ہونے کے بعد پنجاب پولیس کی جانب سے ٹک ٹاکرکیخلاف قلعہ گجر سنگھ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیاتھا۔ایف آئی آر کے مطابق ڈرائیور کانسٹیبل خرم شہزاد کے خلاف پولیس آرڈر 2002ء کی دفعہ 115 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ خرم شہزاد اور کاشف ضمیر پولیس کی تضحیک کا باعث بنے اور اے آئی کا استعمال کر کے جھوٹے بیانیے کا پرچار کیاتھا ان کے خلاف الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ 2016ء (پیکا) کے سیکشن 13 (الیکٹرانک جعل سازی) اور 26 (جعل سازی) اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 34 اور 201 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے سوشل میڈیا پر مقدمات درج کاشف ضمیر کی نمائش سی سی ڈی ٹک ٹاکر کے خلاف کے تحت

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت