پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لیا جائے ‘ کاشف شیخ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا ، تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے ، یہ اضافہ قابل قبول نہیں ہے ،حکومت نے ایک ماہ کے اندر پیٹرول کی قیمت 14 میں روپے اور ڈیزل کی قیمت 17 روپے اضافہ کرکے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے جس سے ملک میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آئے گا اور عوام کی قوت خرید مزید کم ہونے سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی جبکہ معیشت شدید مشکلات کا شکار ہو گی ، حکومت کے اس اقدام سے بجلی مزید مہنگی ہو گی جس سے کاروبار کی لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو گا جبکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ کی لاگت مزید بڑھ جائے گی جو شدید مہنگائی کا باعث بنے گی۔صوبائی امیر نے ایک بیان میں مزید کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عاید تمام ٹیکس اور پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کرے اور کاروبار، عوام اور معیشت کو تباہی سے بچانے کے لیے تیل کی قیمتوں میں موجودہ اضافے پر فوری نظرثانی کرے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا بوجھ عام شہریوں پر پڑے گا جو پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔وفاقی بجٹ عوام کے لیے مہنگائی کا نیا طوفان لارہا ہے،یہ غربت نہیں غریب مکاؤ وفاقی بجٹ ہے‘ جب سے ملک میں پی ڈی ایم ٹولے پر مشتمل جماعتوں کی جعلی حکومت قائم ہوئی ہے تب سے ہوشربا مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔چینی 200سوروپے کلو، گیس، پیٹرول سمیت تمام اشیا خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں لیکن جعلی حکمران مہنگائی میں کمی کے جھوٹے دعوے کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ایک طرف وزیروں،مشیروں، اسمبلی ممبران، اسپیکر، سینیٹ چیئرمین کی تنخواہوں میں 200فیصد سے زاید اضافہ کیا گیا تو دوسری جانب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مناسب اضافہ کرنے کے بجائے مزید ٹیکس اور گیس،پیٹرول سمیت ہر چیز مہنگی کرکے عوام سے جینے کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی قیمتوں میں مہنگائی کا عوام کی
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔