تہران میں صیہونی رجیم کے لئے کام کرنیوالا نیٹ ورک گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
پولیس حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مختلف چینلز پر پھیلا رہا تھا بلکہ حساس مقامات کی لوکیشن بھی دشمن کو ارسال کر رہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی دارالحکومت تہران کے محکمہ پولیس نے بتایا ہے کہ شہر کے جنوب مغرب میں صیہونی رجیم کے لئے سرگرم نیٹ ورک کو تلاش کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک تہران کے مختلف علاقوں سے 12 روزہ جنگ کے دوران قومی سلامتی کیخلاف تصاویر اور مواد کو مختلف چینلز اور ذرائع سے پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ پولیس کے مطابق نیٹ ورک کے ماسٹر مائنڈ تک رسائی کے بعد اس کے ساتھ کام کرنیوالے تمام ایجنٹس کو پکڑا گیا ہے۔
اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مختلف چینلز پر پھیلا رہا تھا بلکہ حساس مقامات کی لوکیشن بھی دشمن کو ارسال کر رہا تھا۔ یہ نیٹ ورک دشمن کے ساتھ مسلسل اور مستقل طور پر رابطے میں تھا اور باہر سے ہدایات لیکر کام کر رہا تھا۔ گرفتاری سے پہلے اپنی آخری کوشش کے طور پر یہ نیٹ ورک روزمرہ زندگی عوام میں مایوسی پھیلانے کے لئے ایسی خبریں اور معلومات پھیلا رہا تھا کہ اشیائے خوردونوش کی نایابی واقع ہو چکی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی حمایت اور قومی اتحاد و وحدت سے دشمن کے مذموم مقاصد کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یہ نیٹ ورک رہا تھا
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔