تہران میں صیہونی رجیم کے لئے کام کرنیوالا نیٹ ورک گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
پولیس حکام کے مطابق یہ نیٹ ورک نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مختلف چینلز پر پھیلا رہا تھا بلکہ حساس مقامات کی لوکیشن بھی دشمن کو ارسال کر رہا تھا۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی دارالحکومت تہران کے محکمہ پولیس نے بتایا ہے کہ شہر کے جنوب مغرب میں صیہونی رجیم کے لئے سرگرم نیٹ ورک کو تلاش کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ نیٹ ورک تہران کے مختلف علاقوں سے 12 روزہ جنگ کے دوران قومی سلامتی کیخلاف تصاویر اور مواد کو مختلف چینلز اور ذرائع سے پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔ پولیس کے مطابق نیٹ ورک کے ماسٹر مائنڈ تک رسائی کے بعد اس کے ساتھ کام کرنیوالے تمام ایجنٹس کو پکڑا گیا ہے۔
اسی طرح یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ نیٹ ورک نہ صرف تصاویر اور ویڈیوز بنا کر مختلف چینلز پر پھیلا رہا تھا بلکہ حساس مقامات کی لوکیشن بھی دشمن کو ارسال کر رہا تھا۔ یہ نیٹ ورک دشمن کے ساتھ مسلسل اور مستقل طور پر رابطے میں تھا اور باہر سے ہدایات لیکر کام کر رہا تھا۔ گرفتاری سے پہلے اپنی آخری کوشش کے طور پر یہ نیٹ ورک روزمرہ زندگی عوام میں مایوسی پھیلانے کے لئے ایسی خبریں اور معلومات پھیلا رہا تھا کہ اشیائے خوردونوش کی نایابی واقع ہو چکی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ عوامی حمایت اور قومی اتحاد و وحدت سے دشمن کے مذموم مقاصد کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یہ نیٹ ورک رہا تھا
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔