حکومت کا عافیہ رہائی کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ شرمناک ہے،امیر العظیم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور(نمائندہ جسارت)سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی امیرالعظیم نے امریکا میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی رہائی کیس میں حکومت کے فریق نہ بننے کے فیصلے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے شرمناک اقدام قرار دیا ہے۔منصورہ سے جاری بیان میں امیرالعظیم نے کہا کہ بجائے اس کے کہ قوم کی بیٹی کی ناحق قید سے رہائی کے لیے وسائل کو بروئے کار لایا جائے اور حکمران پوری تندہی سے مقدمے کی پیروی کریں، یہ مکمل پسپائی اختیار کرچکے ہیں اور امریکی غلامی میں تمام حدیں عبور کرگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ ٹرمپ کی ناراضی مول لینے کو تیار نہیں اور آئینی و قانونی اقدامات
اٹھانے سے بھی گریزاں ہیں۔ حکمرانوں نے بے گناہ پاکستانیوں کو امریکا کے حوالے کرنے اور پاکستان میں امریکی قاتلوں کی باعزت رہائی کی جو تاریخ رقم کی ہے اس سے قوم پہلے ہی پوری طرح واقف ہے۔ حکمرانوں اور اہم اداروں کو چاہیے تھا کہ امریکا کو مطلوب افراد حوالے کرنے کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی شرط رکھتے، مگر غلام ذہنیت نے ان کی عقل پر پردے ڈال دیے ہیں۔ امیر العظیم نے کہا کہ حکومت اور ادارے فوری طور پر اپنے فیصلوں پر نظرثانی کریں۔ ڈاکٹر عافیہ کی باعزت رہائی اور وطن واپسی کے لیے ناصرف امریکی عدالت میں کیس کی پیروی کی جائے بلکہ ٹرمپ انتظامیہ پر بھی زور دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کے تعلقات امریکا سے بہتر ہوگئے ہیں تو قوم امید رکھتی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی ممکن بنائی جائے گی۔ یاد رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کے موقع پر وفاقی حکومت نے امریکی عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیس میں عدالتی معاونت فراہم کرنے اور فریق بننے سے انکار کردیا ہے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت نے امریکا میں کیس میں فریق نہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کس وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا اور وجوہات کیا ہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے یہی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ کیس میں
پڑھیں:
سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
---فائل فوٹواسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔
سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔
اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔