نئی دہلی(نیوز ڈیسک)بھارتی جارحیت پرپاکستان نے منہ توڑ جواب دیا، امریکی میڈیا نے بھی سیزفائر کی تفصیلات بتادیں، جے شنکر نے انٹرویو میں کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے نریندر مودی کو بتایا کہ اگرکچھ باتیں تسلیم نہ کیں تو پاکستان بھارت پر بہت بڑا حملہ کرے گا۔

امریکی میگزین کو انٹرویو میں بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بتایا کہ 9 مئی کی رات امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو فون کر کے بتایا کہ پاکستان بھارت پر بہت بڑا حملہ کرے گا، اگر ہم نے کچھ باتیں تسلیم نہیں کیں، اس پر نریندر مودی نے عندیہ دیا کہ بھارت بھی جواب دے گا۔

جے شنکر کے مطابق یہ کال اس وقت کی گئی جب خطے میں کشیدگی اپنے عروج پر تھی۔ امریکی نائب وزیر خارجہ نے نہ صرف بھارت کو تنبیہ کی بلکہ کچھ مخصوص شرائط بھی پیش کیں اور زور دیا کہ ان شرائط کو تسلیم کرنا خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔

وزیر خارجہ جے شنکر کے بقول ”امریکی نائب وزیر خارجہ نے وزیراعظم مودی سے کہا کہ حالات بہت نازک ہیں اور اگر بھارت نے مطلوبہ شرائط کو تسلیم نہیں کیا تو پاکستان کی جانب سے ایک بڑا عسکری ردعمل یا حملہ خارج از امکان نہیں۔“

امریکی میگزین کےمطابق پہلگام واقعے کے بعد بھارت کی مسلسل جارحیت پرپاکستان نے آپریشن معرکہ حق کے ذریعے منہ توڑ جواب دیا، بھارت میں آدم پور، ادھم پور، بھٹنڈا، سورت گڑھ، مامون، اکھنور، جموں سمیت دس سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا،اڑی فیلڈ سپلائی ڈپو، سرسہ اور ہلوارا ائر فیلڈ بھی تباہ کر دی تھی۔
سیزفائر کی تفصیلات بتاتے ہوئے امریکی صحافی نک رابرٹسن نے بتایا کہ حساس انٹیلی جنس کی وجہ سے امریکا نے پاک بھارت کشیدگی میں اپنی مداخلت بڑھائی، بھارتی حملے کے بعد پاکستان نے بھارت پر نہ رکنے والے میزائلوں کی بارش کی،، پاکستانی میزائل حملوں کے بعد بھارت پیچھے ہٹنے اور مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا ہے۔

خیال رہےکہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے پاکستانی علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے گئے تاہم پاک فضائیہ کی بروقت جوابی کارروائی کے نیتجے 7 بھارتی طیارے تباہ ہوئے، بعد ازاں بھارت مختلف علاقوں پر ڈرونز اور میزائل حملے بھی کرتا رہا۔
مزیدپڑھیں:صنم جاوید کو کوٹ لکھپت جیل سے رہا کر دیا گیا

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: امریکی نائب بتایا کہ

پڑھیں:

امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد

واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔

بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • نوجوانوں کی خدمات کے اعتراف میں اداکار ادریس ایلبا کو نائٹ کا خطاب
  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش