بھارت نے پاکستانی یوٹیوب چینلز پر پابندی ہٹا دی، کچھ فنکاروں کے اکاؤنٹس بھی بحال
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
بھارت میں پاکستانی یوٹیوب چینلز اور فنکاروں پر عائد کی گئی پابندی اچانک ختم کردی گئی ہے جس کے بعد بھارتی شائقین ایک بار پھر پاکستانی مواد تک رسائی حاصل کرسکے ہیں۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے جہاں پاکستانی یوٹیوب چینلز اور اداکاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندیاں لگائی تھیں، وہیں فواد خان اور ہانیہ عامر سمیت پاکستانی فنکاروں کی فلموں کی ریلیز بھی روک دی گئی تھی۔ اس کے باوجود ہانیہ عامر کی فلم دنیا بھر میں کامیاب ریلیز ہوئی، تاہم بھارت میں ریلیز نہ ہوسکی۔
اب بھارتی حکومت نے اچانک یہ پابندیاں ختم کرتے ہوئے پاکستانی یوٹیوب چینلز کو دوبارہ کھول دیا ہے، جس پر بھارتی شائقین خوشی کا اظہار کررہے ہیں۔ اگرچہ پابندی کے دوران پاکستانی ڈراموں کی بھارتی ویورشپ میں کمی ہوئی تھی، تاہم ’’من مست ملنگ‘‘، ’’شیر‘‘، ’’ڈائن‘‘ اور ’’پرورش‘‘ جیسے مقبول ڈرامے مسلسل بھارتی ناظرین کو اپنی جانب متوجہ کرتے رہے۔
بھارتی صارفین نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک مداح نے لکھا، ’’’پہلا قدم دلجیت دوسانجھ نے اٹھایا، اب سب ان کے پیچھے چل رہے ہیں۔‘‘ ایک اور صارف نے کہا، ’’پابندی ختم ہونا خوش آئند ہے مگر پاکستانی انڈسٹری کو اب اور بہتر مواد پر توجہ دینی چاہیے۔‘‘
اداکار دانش تیمور کے مداح اس پابندی کے خاتمے پر خاصے پرجوش نظر آئے، کیونکہ ان کا ڈرامہ ’شیر‘ اور ’من مست ملنگ‘ پابندی کے باوجود بھارت میں اچھا بزنس کررہا تھا، مداحوں کو امید ہے کہ اب اس کی ویورشپ مزید بڑھے گی۔ ایک مداح نے لکھا، ’’’اب شیر مزید دھاڑے گا۔‘‘ جبکہ ایک اور صارف نے کہا، ’’شیر اب تیزی سے ایک بلین کلب میں داخل ہوگا اور ’تیرے بن‘ کا ریکارڈ توڑ دے گا۔‘‘
اس دوران بھارتی صارفین اس وقت حیران رہ گئے جب انہوں نے اپنی ٹائم لائن پر کچھ پاکستانی فنکاروں کی پوسٹس دیکھیں، جس سے معلوم ہوا کہ کچھ اکاؤنٹس پر عائد پابندی بھی بغیر کسی اعلان کے ختم کردی گئی ہے۔ جن فنکاروں کے اکاؤنٹس تک رسائی بحال ہوئی ہے ان میں دانش تیمور، احد رضا میر، ماورا حسین اور یمنیٰ زیدی شامل ہیں۔
تاہم، ابھی بھی کئی فنکاروں کے اکاؤنٹس بھارتی صارفین کےلیے بند ہیں جن میں ماہرہ خان، فواد خان، وہاج علی، اقرا عزیز، فرحان سعید اور ہانیہ عامر شامل ہیں۔
View this post on InstagramA post shared by TCX.
ماہرین کے مطابق بھارتی حکومت کا یہ قدم ثقافتی تعلقات کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ ہے اور بھارتی شائقین کے لیے بھی خوشی کی خبر ہے جو پاکستانی مواد کے مداح ہیں۔ پاکستانی انڈسٹری کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ معیاری مواد کے ذریعے بھارتی مارکیٹ میں اپنی موجودگی مزید مضبوط بنا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستانی یوٹیوب چینلز
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔